سمندر کے نیچے پہلی بڑی جنگ

ہنلے،دنیاکی پہلی آبدوز
ہنلے،دنیاکی پہلی آبدوز

انسان صدیوں سے اس کوشش میں رہا ہے کہ سمندر کے نیچے تیرنے والا جنگی جہاز بنا سکے۔ تاکہ دشمن کے جہازوں کو اچانک نشانہ بنایا جا سکے۔ کئی بار ایسی کوششیں ہوئیں لیکن کامیاب نہ ہو سکیں۔ انیسویں صدی میں امریکی خانہ جنگی کے دوران علیحدگی پسندوں نے ایک آبدوز بنائی جسے امریکی ریاست کے خلاف استعمال کیا گیا۔ یہ دن تھا 17فروری 1864 کا اور اس دن تاریخ میں پہلی بار آبدوز کا کامیاب استعمال ہوا۔ امریکی باغیوں کی آبدوز ’ایچ ایل ہینلے‘ نے جنوبی امریکی جہاز ’یو ایس ایس ہوساٹونک‘ (USS Housatonic) کو ڈبو دیا۔ لیکن یہ آبدوز واپسی کے سفر میں خود بھی حادثے کا شکار ہو گئی اور عملے سمیت ڈوب گئی۔ پہلی جدید کامیاب آب دوز بنانے کا سہرا جرمنی کے سر ہے۔ جسے1906 میں بنایا اور کامیابی سے سمندر میں اتارا گیا۔ یہ آبدوز بھی اپنے پہلے سفر میں حادثے کا شکار ہونے سے بال بال بچی۔

آبدوز کا پہلاشکار،امریکی جہازہوساٹونک
آبدوز کا پہلاشکار،امریکی جہازہوساٹونک

یو۔بوٹس کا دور

جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا تو جرمنی نے سب سے پہلے آبدوز کا استعمال کیا۔ جو اتحادیوں کے لیے ایک خوفناک سرپرائز تھا۔ جرمنی نے اپنی آبدوزوں کو یو۔بوٹس کا نام دیا۔ یہ بہت خطرناک ہتھیار تھا۔ سمندر کے نیچے تیرتے ہوئے یہ کسی بھی جہاز کے قریب چلا جاتا اور اسے خبر تک نہ ہوتی۔ یو۔بوٹس ایک قریب فاصلے تک مار کرنے والا میزائل تارپیڈو فائر کرتے تھے۔ جبکہ بعض اوقات ہدف کے قریب جا کر سطح سمندر پر ظاہر ہو کر مشین گن سے ہدف پر حملہ کر دیا جاتا۔ ایسا تب کیا جاتا جب ٹارگٹ ہائی ویلیو نہیں ہوتا تھا اور تارپیڈو جیسے مہنگے ہتھیار کو ضائع ہونے سے بچانا مقصود ہوتا تھا۔

جرمن یو۔بوٹ کا خاکہ اورتفصیلات
جرمن یو۔بوٹ کا خاکہ اورتفصیلات

یو۔بوٹ کا پہلا شکار

آبدوز کا پہلا جنگی استعمال جنگ عظیم اول 1914-18 میں جرمنی نے کیا۔ جب بحر اوقیانوس (Atlantic Ocean) میں برطانوی جہاز ’پاتھ فائنڈر‘ کو آبدوز سے گولا ’تارپیڈو‘ فائر کر کے تباہ کر دیا۔ برطانیہ ایک صدی سے سمندر کی سپرپاور چلا آ رہا تھا۔ کسی کو اس کے بحری یا تجارتی جہازوں کو آنکھ دکھانے کی بھی جرت نہیں تھی۔ ایسے میں پاتھ فائنڈر کی تباہی انگریزوں کے لیے ایک زلزلے سے کم نہیں تھی۔ لیکن اس وقت کے سیکرٹری ایڈمرل چرچل نے اپنی عوام سے جھوٹ بولا اور کہا کہ دراصل جہاز سمندر جرمنوں کی بچھائی ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہوا ہے۔ یوں لوگوں کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ہماری سمندری طاقت کے مقابلے میں کوئی طاقت ابھی میدان میں نہیں آئی۔

سپر پاور برطانیہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا

جلد ہی سکاٹ لینڈ کے ایک اخبار نے چرچل کے جھوٹ کا بھانڈا پھوڑ دیا جس کے بعد لندن کو یہ احساس ہونے لگا کہ سمندروں پر اس کی حکومت اب بلا شرکت غیرے نہیں رہی۔  یہ تاثر اس وقت اور مضبوط ہوا جب چند دنوں بعد دو گھنٹے کے قلیل وقت میں یو۔بوٹس نے تین برطانوی جہاز غرق دیئے۔ اپریل 1915 تک جرمنی اتحادیوں (برطانیہ، فرانس) کے 39 جہاز سمندر برد کر چکا تھا۔ یہ اتنا بڑا نقصان تھا کہ برطانیہ کی معلوم تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا تھا۔

اپنے وقت کاسب سےبڑا جہاز۔لوسیٹینیا

دنیا کا سب سے بڑا جہاز ڈوبو دیا گیا

مئی 1915 میں جرمنی نے وہ کر دیا جو شاید اسے نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اور وہ یہ کہ ’یو۔بوٹ ٹونٹی‘ نے سب سے بڑے امریکی مسافر جہاز ’لوسیٹینیا‘ کو ڈبو دیا۔ لوسیٹینیا اس وقت دنیا کا سب سے بڑا بحری جہاز تھا۔ امریکہ اسے اپنا فخر سمجھتا تھا۔ جہاز کی امریکہ سے برطانیہ روانگی کے وقت امریکی صدر ولسن نے جہاز کو وارننگ بھی دی لیکن وہ مسافر جہاز کو کسی قانون کے مطابق روک نہیں سکتا تھا۔ جہاز کے لنگر اٹھانے سے پہلے جرمنوں نے تمام امریکی اخبارات میں اشتہارات بھی شائع کروائے کہ لوسیٹینا برطانیہ کا رخ نہ کرے۔ کیونکہ اس کے راستے میں جرمنی اور برطانیہ کے درمیان جنگ چل رہی ہے اور خدشہ ہے کہ جہاز اس جنگ کی بھینٹ نہ چڑھ جائے۔ ان تمام دھمکی آمیز درخواستوں کو نظر انداز کرتے ہوئے لوسیٹینیا کے لنگر اٹھا دئیے گئے۔ جرمنوں کو یہ بھی شک تھا کہ اس جہاز میں برطانیہ کے لیے امریکہ سے جنگی سازوسامان آ رہا ہے۔ جہاز جیسے ہی برطانوی پانیوں میں داخل ہوا یو۔بوٹ نمبر بیس نے قریب پہنچ کر تارپیڈو فائر کر دیا اور 7مئی 1915 کو دنیا کا سب سے بڑا اور جدید بحری جہاز آگ کے شعلوں میں لپٹا ہوا تھا۔ صرف 18 منٹ میں جہاز سطح سمندر سے غائب ہو گیا۔

ڈوبتے لوسٹینیا کا آخری نظارہ
ڈوبتے لوسٹینیا کا آخری نظارہ

جہاز پر سوار 1،198 مسافر عملے سمیت ہلاک ہو گئے۔ امریکہ میں اس تباہی کے بعد ہنگامہ مچ گیا۔ ہر کوئی امریکہ کو جنگ میں کود پڑنے کی تلقین کرنے لگا۔ لیکن اسی دوران جرمنی نے امریکہ سے رسمی معافی مانگ کر آئندہ اس کے جنگی جہازوں کو وارننگ دینے اور مسافر یا تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ دینے کا وعدہ کیا۔ اس معافی اور وعدے کو امریکہ نے قبول کیا اور جرمنی کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔

یو۔بوٹس کا توڑ نکال لیا گیا

یو۔بوٹس کو تلاش کرتے فضا میں تیرتے غبارہ جہاز
یو۔بوٹس کو تلاش کرتے فضا میں تیرتے غبارہ جہاز

1916 کے آخر تک جنگ عظیم اول میں برطانیہ کے ایک ہزار جہاز تباہ ہو چکے تھے۔ لیکن اس وقت تک برطانیہ نے اس کا توڑ تلاش کر لیا تھا۔ تجارتی جہازوں  نے جنگی جہازوں کے گھیرے میں سفر شروع کر دیا اور بحری جہازوں پر ایسی مشین گنیں نصب کر دی گئیں جن سے آبدوز کے قریب آتے ہیں فائر کھول دیا جاتا۔ یو۔بوٹس کے ابتدائی ڈیزائن میں دو خامیاں تھیں۔ پہلی یہ کہ اسے تارپیڈو میزائل فائرکرنے کے لیے ہدف کے بہت قریب آنا پڑتا تھا۔ دوسری خامی یہ تھی کہ یو۔بوٹ زیادہ دیر سطح سمندر سے نیچے نہیں رہ سکتی تھی۔ اسے کچھ دیر بعد سطح آب پر آنا پڑتا تھا۔ یہی دو خامیاں تھیں جن کا اتحادیوں کا بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اتحادیوں کے ائرشپس یعنی گیسی غبارے جیسے جہاز بھی سمندر پر اڑتے رہتے اور یو۔بوٹس کو دیکھتے ہی اس پر بم گرا دیتے۔

لوسیٹینا ڈوبنے پر ایک امریکی اخبارکی سرخی

وعدہ خلافی اور امریکی اعلان

6اپریل 1917 میں امریکہ نے جنگ عظیم اول میں غیرجانبداری کا ارادہ ترک کر دیا۔ کیونکہ جرمنی نے وعدہ خلافی کرتے ہوئے مسلسل امریکی تجارتی جہازوں کو ڈبونے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا تھا۔ کیونکہ جرمنی سمجھتا تھا کہ برطانیہ کو امریکہ کی طرف سے جنگی رسد پہنچ رہی ہے اور یہ سچ بھی تھا۔

جنگ میں تیزی

امریکہ کا جرمنی کے خلاف اعلان جنگ کرنا تھا کہ جنگ تیز ہو گئی۔ جرمنی چاہتا تھا کہ امریکہ کے جنگ میں براہ راست کودنے سے پہلے ہی برطانیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے۔ اس نے یو۔بوٹس کے حملے تیز کر دیئے۔ اپریل 1917 میں جرمنی نے برطانیہ کی طرف سامان لے جانے والے ہر جہاز کو نشانہ بنایا۔ جس کی وجہ سے لندن میں اجناس کا قحط پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ حملے اتنے تیز تھے کہ ایک ایک دن میں پندرہ پندرہ جہاز تباہ ہو رہے تھے۔ اخباروں میں تباہ ہونے والے جہازوں کے نام اور تفصیلات دینے کے لیے جگہ کم پڑ جاتی تھی۔ ہلاکتوں کے لیے الگ ضمیمے چھاپنے پڑتے تھے۔

جرمنی کی ہمت جواب دینے لگی

1917 کے وسط میں یو۔بوٹس کی طاقت کمزور پڑنے لگی۔ اتحادیوں کے حملوں سے ایک ایک ہفتے میں دو دو یو۔بوٹس تباہ ہونے لگیں۔ اور یہ تعداد جرمنی کے لیے اس لیے پریشان کن تھی کہ وہ اس تیزی سے نئی یو۔بوٹس تیار نہیں کر سکتا تھا۔ محاصرے کی وجہ سے بیرونی دنیا سے خام مال بھی جرمنی نہیں پہنچ رہا تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب پہلی بار جرمنی نے فتح کے بجائے شکست کے ڈراؤنے خواب دیکھنے شروع کیے۔ 1918 تک جرمنی کے پاس مزید یو۔بوٹس تیار کرنے کی صلاحیت بھی تقریباً ختم ہو گئی اور اس نے ہتھیار ڈالنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن ظاہر ہے اس کی وجہ صرف یہ نہیں تھی۔

یہ پانسہ پلٹ ہتھیار کیوں نہ بن سکا

جنگ عظیم اول میں جرمنی شاید اپنے اسی ہتھیار سے دشمن کو دھول چٹا دیتا لیکن اس کے محاصرے اور خام مال کی کمی نے ایسا نہ ہونے دیا۔ اس کے باوجود جرمنی نے چار سال میں اتحادیوں کے 5ہزار200 جہاز ڈبو دیئے تھے۔ اور یہ اس وقت تک کی انسانی تاریخ کا سب سے بڑا بحری نقصان تھا۔ بلکہ اس سے دس گنا کم نقصان بھی کبھی کسی جنگ میں نہیں ہوا تھا۔ بہرحال جنگ عظیم اول کے بعد سے آبدوز ہر ملک کی سمندری طاقت کا اہم ترین جزو ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *