پہلی جنگ عظیم کے خوفناک ہتھیار

اتحادیوں نے جرمنی کے خلاف مہم چلا دی۔ لیکن اپنے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ وہ خود بھی یہی کر رہے ہیں
اتحادیوں نے جرمنی کے خلاف مہم چلا دی۔ لیکن اپنے عوام کو یہ نہیں بتایا کہ وہ خود بھی یہی کر رہے ہیں

جنگ عظیم اول میں مغربی محاذ پر دونوں فوجیں خندقیں کھود کر مورچہ زن ہو گئیں۔ صورتحال کچھ یوں تھی کہ نہ تو اتحادی فورسز جرمنوں کو ایک انچ پیچھے دھکیل پا رہی تھیں اور نہ جرمنی ہی اتحادی فوجوں کو پیچھے دھکیلنے میں کامیاب ہو رہا تھا۔ اس مایوسی کی صورتحال میں دونوں طرنت نئی کوششوں میں لگے رہتے تھے۔ لیکن ہر کوشش لاکھوں فوجیوں کی ہلاکت پر ختم ہوتی تھی۔ بعض اوقات چند میل کا علاقہ ایک فوج دوسری سے چھین بھی لیتی لیکن سیکڑوں میل لمبی خندقوں میں رسد وغیرہ کے مسائل کے باعث اسے پھر سے پیچھےہٹنا پڑتا۔ ایسے میں ایک ممنوعہ ہتھیار کا استعمال کیا گیا۔ کیمیائی ہتھیار کا استعمال اور اس پمیں پہل جرمنوں نے کی۔

22اپریل 1915

کلرین گیس ہوا کےرخ پر جارہی ہے
کلرین گیس ہوا کے رخ پر جارہی ہے

بیلجیم میں ورداں کے محاذ پر جرمنوں نے دشمن کے خلاف پہلی بار کلورین گیس کا استعمال کیا۔ اس کے لیے جرمنوں کو کئی دن انتظار کرنا پڑا۔ کیونکہ ہوا کا رخ مسلسل بدل رہا تھا۔ پھر ایک دن اتحادی فوجوں نے سبز رنگ کا دھواں اپنی طرف بڑھتے دیکھا۔ ابھی وہ اسے سمجھ نہیں پائے تھے کہ ان کے دم گھٹنےلگے۔ جن کو کچھ ہوش باقی تھا وہ سر پر پاؤں رکھ کر پیچھے کو بھاگے۔ کلورین گیس کا ہتھیار ابتدائی طور پر کارآمد رہا اور چار میل کے رقبے پر قبضہ ہو گیا۔ پانچ ہزار اتحادی فوجی عبرتناک موت مارے گئے۔ صرف وہ زندہ بچے جو تین میل مسلسل بھاگ کر گیس کے تعاقب سے بچ نکلے۔ یہ سب کچھ بہت اچانک تھا۔ لیکن اس فتح کا جرمنوں کو کچھ زیادہ فائدہ نہیں ہوا۔ کیونکہ کچھ دیر بعد یہ جگہ پھر خالی کرنا پڑی۔ اور صورتحال وہیں رہی جہاں کلورین سے پہلے تھی۔

جرمنوں کی گیس کا توڑ نکل آیا

جنگ عظیم اول کے پہلے گیس ماسک
جنگ عظیم اول کے پہلے گیس ماسک

اتحادیوں نے فوری طور پر ایک گیس ماسک تیار کیا جسے پیشاب میں بھگو کر ناک پر رکھنے سے کلورین کا اثر ختم ہو جاتا تھا۔ اس کے ساتھ گلاسز بھی تھے۔ یہ سادہ ترین اور پہلا گیس ماسک تھا جسے بعد میں بہت جدید کر لیا گیا۔

جوابی گیس بھی استعمال ہوئی لیکن ۔۔۔

برطانوی کیمیا دانوں نے دنوں میں اپنی فورسز کے لیے بھی کیمیائی ہتھیار تیار کر لیے۔ انھیں محاذ جنگ پر پہنچا دیا گیا۔ مناسب وقت پر جب ہوا کا رخ جرمنوں کی طرف ہوا اور گیس کھولی گئی تو اچانک ہوا کا رخ پلٹ گیا۔ جس سے بجائے جرمنوں کے سیکڑوں برطانوی فوجی لقمہ اجل بن گئے۔

15دسمبر1915

فرانس نے پہلی بار دسمبر میں کیمیائی ہتھیار استعمال کیے۔ لیکن یہ کلورین نہیں تھی۔ یہ فاسجین گیس تھی۔ یہ بے رنگ بے بو گیس تھی۔ اس لیے اس کا پتہ تب چلتا تھا جب یہ اپنا اثر دکھنا شروع کرتی تھی۔ لیکن اس گیس سے بھی جنگ میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ سکی۔ اور سٹیل میٹ جوں کا توں رہا۔ لیکن کیمیائی ہتھیاروں کی دوڑ میں ایک ہتھیار باقی تھا جس نے جنگ میں فیصلہ کن کردار تو ادا نہیں کیا لیکن دونوں طرف کی فوجوں کو خوف میں مبتلا ضرور رکھا۔

مسٹرڈ گیس (mustard gas)

مسٹرڈ گیس کے شکار اندھے فوجی
مسٹرڈ گیس کے شکار اندھے فوجی

یہ گیس پہلی بار جرمنی نے استعمال کی۔ اس سے کوئی مرتا نہیں تھا بس کچھ دیر کے لیے اندھا ہو جاتا تھا۔ جسم میں ناقابل برداشت درد اٹھتا تھا اور جسم پر بدنما داغ پڑ جاتے تھے۔ اس کا توڑ تیار ہوا تو جرمنوں نے گیس کو اور زیادہ خوفناک بنا دیا۔ وہ یوں کہ اس میں ایسے اجزا شامل کر دئیے جو گیس ماسک کی جھلی بھی جلا دیتے تھے۔ یہ وہ گیس تھی جس سے ہٹلر بھی متاثر ہو کر کچھ دیر کے لیے اندھا ہو گیا تھا۔

24انسانوں نے پانچ لاکھ انسان مار دیئے

کل ملا کے چوبیس کیمیا دان تھے جو امریکہ، فرانس اور جرمنی کے لیے کیمیائی ہتھیار بنا رہے تھے۔ لیکن ان کے بنائے خطرناک ہتھیاروں سے پانچ لاکھ فوجی ہلاک ہوئے۔ جنگ کے بعد ایک بار پھر کیمیائی ہتھیاروں پر پابندیوں کے نئے قوانین بنے۔ پہلی جنگ عظیم میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے جرنیلوں نے یہ سیکھ لیا کہ کیمیائی ہتھیار میدان جنگ میں فیصلہ کن حیثیت نہیں رکھتے۔ لیکن دشمن کو ہر وقت خوف میں مبتلا رکھنے کے لیے ان سے بہتر ہتھیار کوئی اور نہیں۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *