دنیا کی پہلی باقاعدہ فضائی جنگ

دنیا کی پہلی فضائی جنگ 1915 میں پہلی جنگ عظیم کے دوران لڑی گئی۔ جب جرمنی نے پہلے غبارہ نما جہاز ژیپلن میں برطانوی شہر لندن پر بمباری کی۔ اور لندن نے پہلے زمین سے گنز کے ذریعے پھر ہیلی کاپٹروں سے اس کا مقابلہ کیا۔ ژیپلن آٹھ ہزار فٹ بلندی پر اڑتے تھے اور لندن پر بم برسا کر واپس برلن آ جاتے تھے۔

آر سوپر ژیپلن،جو650فٹ طویل تھا
آر سوپر ژیپلن،جو650فٹ طویل تھا

لندن نے جلد ہی ژیپلن کو گرانے کے لیے خاص قسم کی گنز تیار کر لیں۔ جو گاڑیوں پر نصب کی گئیں۔ یہ رات کے وقت سرچ لائٹس کے ذریعے ژیپلن کو تلاش کرتیں اور انھیں مار گراتی۔ دو ماہ میں ان گنز کے ذریعے پانچ ژیپلن مار گرائے گئے۔ یہ جرمنی کے لیے ایک بڑا نقصان تھا۔ اس لیے 1916 میں جرمنی نے ژیپلن آپریشن بند کر دیا۔ لیکن اس دوران 20 ماہ میں جرمنی نے 40 حملے کیے جس میں 500 افراد ہلاک ہوئے۔ جن میں بچے بھی شامل تھے۔

ژیپلن سےمقابلے کیلئے70ایم ایم کی گن تیار کی گئی
ژیپلن سےمقابلے کیلئے70ایم ایم کی گن تیار کی گئی
ہوا میں ایک جرمن ژیپلن جل رہا ہے جسے زمین سے فائرکر کے مارگرایا گیا تھا

کچھ دیر بعد لندن نے اپنے شہریوں کو بچانے کے لیے ہیلی کاپٹروں کو استعمال کرنا شروع کیا۔ جہازوں پر مشین گنیں نصب کر دی جاتی تھیں۔ جن کا فائر بلندی پر تیرتے ژیپلن کا غبارہ پھاڑ دیتا تھا۔ جس سے غبارے میں موجود ہائیڈروجن گیس کو آگ لگ جاتی اور ژیپلن اپنے پائلٹ سمیت ختم ہو جاتا۔ اس موقعے پر جرمنی اپنے بہترین فضائی لڑاکا کپتان کھو بیٹھا۔ ہینرک میٹی ایسا ہی جرمن ہیرو تھا۔ وہ پندرویں حملے کے لیے جب لندن شہر کی فضا میں رات کے ساڑھے گیارہ بجے داخل ہوا تو ایک سرچ لائٹ نے اسے کھوج لیا۔ ایک نائٹ فائٹر اس کے تعاقب میں بھاگا اور ہینرک کو جا لیا۔ ژیپلن فائر کا نشانہ بن کر زمین پر گرا تو جھلسی ہوئی گھاس پر ہینرک میٹی کا نقشہ بن گیا۔ اس کی جلی ہوئی لاش زمین پر یوں گری کہ جلتی ہائیڈروجن کی حدت سے پگھل کر ایک یادگار نشان چھوڑ گئی۔

ہنرک میتھی، جرمن ہیرو جس نے لندن پر سب سے زیادہ بم برسائے۔
ہنرک میٹی، جرمن ہیرو جس نے لندن پر سب سے زیادہ بم برسائے۔
دنیا کے پہلے فضائی محاذ کا پہلا کپتان ہینرک میٹی یوں مرا کہ زمین پر اس کی لاش نے پگھل کر نقشہ بنا دیا
دنیا کے پہلے فضائی محاذ کا پہلا کپتان ہینرک میٹی یوں مرا کہ زمین پر اس کی لاش نے پگھل کر نقشہ بنا دیا

ژیپلن آپریشن بند کرنے کے بعد جرمنی نے گوتھا جہاز تیار کیے۔ یہ جہاز بھی لندن پر بمباری کیا کرتے تھے۔ لندن کے شہریوں نے ایک الارم سسٹم بنایا جو فضائی حملے کے وقت سارے شہر کو چوکس کر دیتا اور شہری زمین دوز پناہ گاہوں میں چھپ جاتے۔ یہ حملے دو سال جاری رہے۔ لیکن اس دوران نہ تو لندن کے دفاتر میں چھٹی ہوئی، نہ اسکولز بند کیے گئے اور نہ ہی عدالتوں کو تالے لگے۔ لندن نے ان حملوں کا جواں مردی سے مقابلہ کیا اور کچھ دیر بعد انھیں ناکام بھی بنا دیا۔

جرمن گوتھا طیارے لندن پر پرواز کررہے ہیں
جرمن گوتھا طیارے لندن پر پرواز کررہے ہیں

جرمن طیارے زیادہ تر رات کو بمباری کرتے اور حملے کر کے رات ہی میں واپس چلے جاتے۔ لندن کے لیے یہ تاریخ کا بدترین وقت تھا۔   جرمنی لندن شہر پر حملے کرنے پر آخر کیوں مجبور ہوا؟ کیونکہ وہ اپنے گرد قائم اتحادیوں کے محاصرے کو ہر صورت توڑنا چاہتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ لندن کو اس حد تک مجبور کر دو کہ یہ اتحادیوں کی صفوں سے نکل جائے۔ یا برطانوی شہری آئے روز کے حملوں سے تنگ آ کر اپنی حکومت کو جنگ ختم کرنے پر مجبور کر دیں۔ لیکن ایسا ہو نہ سکا۔

لندن کے نائٹ فائٹر طیارےجنھیں ژیپلن کو تباہ کرنے کے لیے کامیابی سے استعمال کیا گیا

لندن کے نائٹ فائٹر جنگی جہاز کو سادہ ترین ماڈل بھی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ یہ ایک سادہ جہاز تھا جس پر ایک مشین گن نصب کی گئی تھی۔ اس کے جواب میں جرمنی نے گوتھا جنگی جہاز تیار کیے۔ جو زیادہ بلندی پر اڑتے تھے۔ ان جہازوں کے ذریعے دشمن کے ٹھکانوں پر بمباری کی جاتی تھی۔ یہ دنیا کا پہلا بمبار جہاز تھا۔ اس کی رفتار بھی لندن کے نائٹ فائٹر سے کچھ زیادہ تھی۔ لیکن یہ جہاز بھی جنگ میں جرمنی کو فیصلہ کن فتح نہ دلا سکا۔

جرمنی کے گوتھا جنگی جہاز جنھیں تاریخ کے پہلے بمبار طیارے بھی کہا جاتا ہے۔
جرمنی کے گوتھا جنگی جہاز جنھیں تاریخ کے پہلے بمبار طیارے بھی کہا جاتا ہے۔

جنگ عظیم اول میں گوتھا طیاروں نے لندن پر 42 حملے کیے جن میں 800 افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ لیکن یہ سارے حملے جرمنی کو فیصلہ کن فتح دلانے میں ناکام رہے۔ 1918 تک جرمنی ان حملوں کی مدد سے بھی اپنے گرد قائم اتحادیوں کا محاصرہ بھی نہ توڑ سکا۔ ملک کی معاشی حالت اتنی ابتر ہو گئی کہ لوگوں کو کھانا لینے کے لیے لمبی لمبی قطاروں میں لگنا پڑتا۔ اور وہ بھی پیٹ بھر کے نہیں ملتا تھا۔ مزید یہ کہ لڑائی جاری رکھنے کے لیے اسلحہ چاہیے تھا۔ اسلحے کے لیے بیرونی دنیا سے خام مال چاہیے تھا، لیکن محاصرے کے باعث خام مال سمیت کوئی چیز ملک میں نہیں آ رہی تھی۔ نومبر 1918 میں جرمنی نے گھٹنے ٹیک دیئے۔ اتحادی جیت گئے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *