ہٹلر کی دس باتیں جو شاید آپ نہ جانتے ہوں

پہلی جنگ عظیم کے ایک عام سے ڈاکیا فوجی سے دوسری جنگ عظیم کے سب سے اہم کردار ہٹلر کو ہر پڑھا لکھا شخص جانتا ہے لیکن اس کی زندگی کے کچھ دلچسپ گوشے شاید بہت سے لوگ نہ جانتے ہیوں۔

1۔ ہٹلر جرمن نہیں تھا

آسٹریا میں ہٹلر کا بچپن
آسٹریا میں ہٹلر کا بچپن

بلکہ وہ جرمنی کے مشرقی ہمسایہ ملک آسٹروہنگری جو اب آسٹریا ہے وہاں پیدا ہوا اور وہیں تعلیم حاصل کی۔ ماں اور باپ کے مرنے کے بعد وہ ایک ناکام مصور کے طور پر اپنا مستقبل بنانے کی کوشش کرتا رہا۔ لیکن کوئی بہت کم آمدنی کے باعث جوانی کی ابتدا تنگدستی سے ہوئی۔

2- اسے آسٹریا نے فوج بھی بھرتی کرنے سے انکار کر دیا

پہلی جنگ عظیم کے آغاز کے وقت ہٹلر کی تصویر۔ بشکریہ بی بی سی
پہلی جنگ عظیم کے آغاز کے وقت ہٹلر کی تصویر۔ بشکریہ بی بی سی

جنگ عظیم اول کا آغاز ہوا تو بے روزگاری سے نتگ ہٹلر نے اپنے ملک آسٹریا کی فوج میں بھرتی ہونے کے لیے امتحان دیا لیکن اسے بھرتی کرنے سے انکار کر دیا گیا۔ کمانڈر نے ہٹلر سے کہا تم اتنے کمزور ہو کہ رائفل نہیں اٹھا سکتے جنگ کیا خاک لڑو گے۔

3- وہ اپنے باپ سے نفرت اور ماں سے عشق کرتا تھا

ہٹلر کی ماں۔ جس کی تصویر وہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا تھا یہاں تک کہ اپنے زیر زمین بنکر میں بھی
ہٹلر کی ماں۔ جس کی تصویر وہ ہمیشہ اپنے سامنے رکھتا تھا یہاں تک کہ اپنے زیر زمین بنکر میں بھی

ہٹلر نے اپنے باپ کے مرنے کے بعد جلد ہی اس کی قبر پر جانا چھوڑ دیا۔ وہ اس کے سخت گیر رویے کی وجہ سے اس سے نفرت کرتا تھا۔ لیکن اسے اپنی ماں سے بے حد محبت تھی۔ یہاں تک کہ دوسری جنگ عظیم میں جب اس کی شکست یقینی ہو گئی تو وہ ایک زیر زمین بنکر میں جا چھپا۔ اس بنکر میں اس نے خودکشی کر کے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا۔ اس بنکر کے ایک کونے میں ہٹلرنے اپنی ماں کی تصویر لٹکا رکھی تھی۔

5- وہ مصور بننا چاہتا تھا

وقت انسان کو کیا سے کیا بنا دیتا ہے۔ ہٹلر نے آغاز جوانی میں ایک عظیم مصور بننے کا خواب دیکھا۔ ماں باپ کی وفات کے بعد وہ تصویریں بنا کر کھاتی پیتی محفلوں میں بیچ کر روزی روٹی کما رہا تھا۔ لیکن برا ہو آسٹریاہنگری کے ولی عہد پر چلنے والی گولی کا، جس سے پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی اور ہٹلر اچھے پیسے کمانے کے لیے فوج میں بھرتی ہو گیا۔ لیکن مصوری کی مہارت رائیگاں نہیں گئی۔ جب اس نے نازی تنظیم کھڑی کی تو اس کا لوگو اور جھنڈا ہٹلر نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا تھا۔ اپنی فوج کی وردی اور بیجز بھی اسی نے ڈیزائن کیے۔

6- ایک انگلش فوجی، جس کے نشانے پرہٹلر تھا

ہنری ٹینڈی۔۔ وہ برطانوی فوجی جو ایک گولی سے ہٹلر کو قتل کر سکتا تھا۔ اگر وہ ٹریگردبا دیتا تو شاید بیسویں صدی کی تاریخ مختلف ہوتی۔

ہنری ٹینڈی برطانوی فوج کا پیچس چھبیس سالہ جوان تھا۔ جب خندقوں کی لڑائی میں جرمن فوج کو شکست ہوئی اور فوج بھاگنا شروع ہوئی تو ایک موقعے پر ہٹلر ٹھوکر کھا کر گیا۔ اس کے پیچھے برطانوی فوجی تھے جو بھاگتے جرمنوں پر فائر کر رہے تھے۔ ہٹلر لاشوں پر گر گیا۔ چند لمحے بعد اٹھا تو اس کے ہاتھوں میں اسلحہ بھی نہیں تھا۔ اس نے پیھچے مڑ کر دیکھا تو صرف ایک برطانوی فوجی اس پر رائفل تانے کھڑے تھا۔ ہٹلر کی آنکھوں میں شاید موت کے سائے لہرا گئے ہوں۔ لیکن کئی لمحے گزر گئے اور برطانوی فوجی نے فائر نہیں کیا۔ برطانوی فوجی بھی تنہا تھا۔ اس لیے شاید کسی اور طرف سے بھی فائر نہیں آیا۔ کچھ دیر بعد ہٹلر بھانپ گیا کہ برطانوی فوجی اسے نکل جانے کا موقع دے رہا ہے۔ ہٹلر سر نیچا کر کے ایک طرف کو نکل گیا۔ بہت بعد میں جب جنگ عظیم کی تصاویر شائع ہوئیں تو ایک تصویر میں ہٹلر نے ہنری کو پہنچان لیا اور اس کے بارے میں مزید معلومات حاصل کیں۔ دوسری جنگ عظیم سے پہلے ایک بار برطانوی وزیراعظم چیمبرلین جب ہٹلر سے ملنے آیا تو ہٹلر نے ہنری ٹینڈی کا شکریہ ادا کرنے کی درخواست کی۔ چیمنرلین نے ہٹلر سے وعدہ کیا کہ وہ لندن پہنچتے ہیں ہنری کو فون کرے گا اور ہٹلر کے جذبات اس تک پہنچائے گا۔ (گو کہ اس واقعہ کے بارے میں بہت سے شبہات ہیں کیونکہ ہنری کے مطابق اس نے ایک جرمن فوجی کو چھوڑا تو تھا لیکن نہیں معلوم وہ کون تھا) ہنری مختصر مدت کیلئے فوج میں رہا۔ پھر ایک موٹر کمپنی میں ملازم ہو گیا۔ اورچھیاسی برس کی عمر میں مر گیا۔ وصیت کے مطابق اس کی لاش کو جلا کر راکھ برطانیہ میں دفن کر دی گئی۔

7- وہ کچھ دیر کیلئے اندھا ہو گیا تھا

پہلی جنگ عظیم جو کہ ہٹلر نے ایک عام فوجی کے طور پر لڑی، اس میں وہ اتحادیوں کے کیمیکل ہتھیاروں کا شکار ہوا۔ جس کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے وہ اندھا بھی ہو گیا۔ لیکن پھر مختصر علاج کے بعد بصارت ایک بار پھر سے کام کرنے لگی۔

8- ہٹلر کا ممنوعہ عشق

گیلی رابا۔ ہٹلر کی تئیس سالہ بھتیجی جس سے اس کا عشق اخبارات میں مشہور ہوا۔
گیلی رابا۔ ہٹلر کی تئیس سالہ بھتیجی جس سے اس کا عشق اخبارات میں مشہور ہوا۔
ہٹلر کی بیوی ایوا براؤن۔ جو مرتے دم تک ہٹلر کے ساتھ رہی۔ اور ساتھ ہی خودکشی بھی کی۔
ہٹلر کی بیوی ایوا براؤن۔ جو مرتے دم تک ہٹلر کے ساتھ رہی۔ اور ساتھ ہی خودکشی بھی کی۔

ہٹلر کو اپنی رشتے کی بھتیجی تئیس سالہ گیلی رابا سے عشق ہو گیا تھا۔ گیلی نے ایک بار اپنی ایک دوست سے کہا کہ میرا چچا مجھ سے ایسے ایسے مطالبے کرتا ہے کہ کسی کو بتاؤں تو وہ یقین تک نہ کرے۔ لیکن یہ راز زیادہ دیر تک چھپا نہ رہا اور یہ سکینڈل اخبارات میں دھول اڑانے لگا۔ ہٹلر کی زندگی تلخ ترین ہو گئی۔ ہٹلر کو اپنا سیاسی کیرئر ختم ہوتا نظر آنے لگا۔ اس کے سوشلسٹ مخالفین نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ اس پر طرہ یہ کہ گیلی نے خودکشی کر لی۔ جسے مخالفین نے قتل قرار دیا۔ قریب تھا کہ ہٹلر کا سیاسی کیرئر ختم ہو جاتا لیکن ایسے میں اسے گیلی سے ملتی جلتی شکل کی لڑکی انیس سالہ ایوا براؤن مل گئی۔ کہتے ہیں یہ لڑکی ہٹلر سے عشق کرتی تھی جسے ہٹلر کے فوٹوگرافر نے ہٹلر تک پہچایا۔ ہٹلر نے ایوا براؤن سے شادی کا اعلان کیا اور یہ شادی ہوتے ہی پہلے سکینڈل کی دھول چھٹ گئی۔

9- وہ تقریر سے پہلے تصویریں بنواتا تھا

ہٹلر تقریر سے پہلے مختلف انداز بیاں کی تصاویر بنواتا اور انھیں دیکھتا کہ میں کیسا لگ رہا ہوں
ہٹلر تقریر سے پہلے مختلف انداز بیاں کی تصاویر بنواتا اور انھیں دیکھتا کہ میں کیسا لگ رہا ہوں

ہٹلر کی عجیب عادت یہ تھی کہ وہ تقریر سے پہلے مختلف انداز میں تصاویر بنوا کر دیکھتا کہ یہ اس کا انداز کیسا لگ رہا ہے۔ اس کام کیلئے اس نے ایک مستقل فوٹوگرافررکھ چھوڑا تھا۔

10- اس کی عجیب و غریب مونچھوں کی وجہ

ہٹلر اپنی نازی پارٹی اجلاس میں اپنے فوٹوگرافر کیلئے پوز بنا چکا ہے۔
ہٹلر اپنی نازی پارٹی اجلاس میں اپنے فوٹوگرافر کیلئے پوز بنا چکا ہے۔

سب سے آخر میں یہ بھی جان لیں کہ ہٹلر جیسی مونچھیں جرمنی میں پہلے سے رواج پا چکی تھیں۔ لیکن ہٹلر نے یہ مونچھیں ایک خاص وجہ سے تراشیں۔ وہ وجہ یہ تھی کہ ہٹلر جنگ عظیم اول میں ایک خندق میں چھپا بیٹھا تھا کہ اتحادیوں نے گیس شیل پھینک دیا۔ گیس شیل کے زہریلے دھویں سے بچنے کیلئے ہٹلر نے جب دستیاب ماسک پہننے کی کوشش کی تو وہ اس کی بڑی بڑی مونچھوں سے الجھنے لگا۔ جس پر ہٹلر ماسک نہ پہن سکا اور مجبوراً کئی سیکنڈ تک اسے سانس روکنا پڑا۔ گیس کا اثر ختم ہوتے ہی اس نے لمبا سانس لیا اور جتنی مونچھیں ماسک پہننے میں رکاوٹ بن رہی تھیں وہ اندازے سے کاٹ دیں۔ کیونکہ گیس شیل کسی بھی وقت دوبارہ آ سکتا تھا اور ہٹلر کو زندگی پیاری تھی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *