ایک عظیم فلم ساز،کیمرون

وہ ایک داستان گو ہے۔ وہ ایک گہرے سمندر کی فرش تک کھوجنے والا غوطہ خور اور وہ ایک موجد ہے۔ وہ ہالی وڈ کا فلم ساز، مصنف اور پروڈیوسر جیمز ہے۔ جیمز کیمرون کی گھٹی میں تجسس رچا ہوا ہے۔ اسے سمندر کی تہہ میں جانے کا اتنا شوق تھا کہ اس نے دنیا کے سب سے گہرے سمندروں کی تہہ تک جانے کی درجن بھر کامیاب کوششیں کیں۔

2012ء میں جیمز کیمرون نے ایک ورلڈ ریکارڈ بنا ڈالا۔ وہ ایک ڈاکومنٹری فلم بنانے کے لیے دنیا کے سب سے گہرے سمندر کی سب سے گہری کھائی کی تہہ میں تن تنہا اُتر گیا۔ یہ جگہ چین کی مشرقی سمت میں بحرالکاہل میں جاپان اور انڈونیشیا کے درمیان ہے۔ اسے ماریانا ٹرینچ کہتے ہیں۔ سطح سمندر سے اس کی گہرائی 11 کلومیٹر ہے۔

اس گہرائی تک اس سے پہلے کبھی کوئی انسان نہیں پہنچا تھا۔ جیمز نے یہاں تک پہنچنے کے لیے خصوصی طور پر ایک سب میرین تیار کروائی جسے ڈیپ سی چیلنجر کا نام دیا گیا۔ اس 7 میٹر لمبی مشین کو صرف ایک ہی پائلٹ چلا سکتا تھا۔ اس کے علاوہ مشین میں کسی اور کے بیٹھنے کی گنجائش ہرگز نہیں تھی۔

اس لیے جیمزکیمرون کو تن تنہا اس میں بیٹھ کر 11 میل سمندر کے نیچے جانا پڑا اور یوں وہ اس دوران ایک ہی وقت میں پائلٹ، غوطہ خور، کیمرا مین، ڈائریکٹر، انجینئراور محقق تھا۔ آج بھی جیمزکیمرون کے بعد اس جگہ صرف دو اور آدمی پہنچ پائے ہیں۔

سائنسدان ڈرائیور بن گیا جیمزکیمرون کینیڈا کے صوبے اونٹاریو میں رہنے والی ایک نرس کا بیٹا تھا۔ یہ 1973ء کی بات ہے جب وہ فزکس کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے امریکی ریاست کیلی فورنیا آیا۔ سائنس اس کا پسندیدہ مشغلہ اور مضمون تھا اور وہ فزکس میں ہی اپنا مستقبل بنانا چاہتا تھا۔ اس نے گریجوایشن کر لی لیکن اسے کوئی نوکری دینے کو تیار نہیں تھا۔

اس نے ایک ٹرک ڈرائیور کی حیثیت سے ایک چھوٹی سی نوکری کر لی لیکن نوکری میں بھی اسے نالائق ہی گردانا جاتا رہاکیونکہ وہ اچھا ڈرائیور نہیں تھا۔ اس نے شادی کرلی لیکن بیوی سے اس کی بنتی نہیں تھی۔ وہ ڈرائیوری اور خانگی معاملات سے وقت بچاتا تو کچھ لکھنا شروع کر دیتا لیکن اس کے لکھے کو کوئی چھاپتا نہیں تھا۔

اسے فلمیں دیکھنے اور ان میں استعمال ہونے والی تکنیکوں کو سمجھنے کا بہت شوق تھا۔ یہی شوق اسے امریکا کی عظیم الشان کانگریس لائبریری لے جاتا جہاں ٹی وی اور فلموں میں خاص بصری تکنیکوں پر نت نئی تحقیقات پڑھتا رہتا۔ بس یہی اس کا شوق تھا اور عمر کی 23 بہاریں گزارنے کے بعد وہ اس سے زیادہ اور کچھ نہیں سوچ رہا تھا لیکن پھر ایک جادو ہوگیا۔

اسے سٹار وار ہو گئی ایک دن اس نے ہالی وڈ کے شاندار ہدایت کار جارج لوکاس کی فلم سٹاروار دیکھ لی۔ اسے یوں لگا جیسے اسے منزل کا نشان مل گیا ہو۔ اس دن اس نے ٹرک ڈرائیوری چھوڑ دی اور طے کر لیا کہ میں بھی ایسی ہی فلمیں بناؤں گا جن میں سائنسی انداز سے سکرین پر محیرالعقول چیزیں دکھائی جاتی ہیں۔

اس نے ایسی فلمیں بنانے کا فیصلہ کیا جن میں انسانی نفسیات کو لبھانے والی دیومالائی چیزیں یوں دکھائی جائیں جیسے وہ اصل میں وقوع پذیر ہو رہی ہوں۔ جس طرح ہر بڑا کام ایک چھوٹی سی سوچ سے شروع ہوتا ہے بس ایسی ہی ایک چھوٹی سی سوچ نے جیمز کے ذہن میں جنم لے کر شرارتیں شروع کر دیں۔

شٹ اپ جمیز لیکن چاہنے سے کیا ہوتا ہے۔ دو چار ہدایت کاروں کے ساتھ کام کرنے کے بعدجیمز نے سمجھا واہ بھئی اب میں بھی ڈائریکٹر بن گیا ہوں۔ اس نے ’زینوجینسس‘ نام کی ایک فلم لکھ ڈالی۔ چند دوستوں کی مدد سے پیسے اکٹھے کیے ، ایک کیمرا کرائے پر لیا اور فلم بنانے میں جت گیا لیکن بجٹ اتنا کم تھا کہ فلم چھوٹی کرتے کرتے 10 منٹ کی رہ گئی۔

جیمز کیمرون نے پھر بھی ہمت کی اور اسی کی شوٹنگ کاآغاز کر دیا لیکن یہ کیا؟ جس کیمرے کو وہ ایک دن کے لیے کرائے پر لائے تھے وہ انھیں چلانا ہی نہ آیا۔ چلانے کی کوشش میں کیمرا کھل گیا اور اب اسے بند کرنا ایک دشوار ترین کام تھا۔

اس رات کام کرنے کے بجائے کیمرون اور اس کے دوست کیمرا جوڑنے میں جتے رہے اور ساتھ میں پریشان بھی رہے کہ یہ کھلا ہے یا ٹوٹ گیا ہے۔ بہرحال صبح تک کیمرا ٹھیک کیا اور چند شارٹس بھی لیے لیکن سکرین پر یہ اتنے بھدے اور بدمزہ لگے کہ جن دوستوں کے سامنے کیمرون نے خود کو بہت بڑے فلم ڈائریکٹرکی حیثیت سے پیش کیا تھا اس کا مذاق اڑاتے ہوئے چلے گئے۔

دو دن تک ایک کلوزاپ نہ لے سکا ناکامیوں سے دوچار جیمز کیمرون نے اب کم بجٹ کی فلموں میں بطور مددگار کچھ پروڈیوسروں اور ہدایتکاروں کے ساتھ کام شروع کر دیا۔ وہ چند پیسوں کے عوض کہیں معاون ڈریس ڈیزائنر اور کہیں معاون ہدایت کار بن جاتا لیکن زیادہ تر اسے معاون اسپیشل ایفکٹس کا کام ملتا۔

اسی دوران ایک تھوڑے بجٹ کی اطالوی فلم ’پیرانا‘ کے دوسرے حصے پر معاون ہدایت کار کا کام مل گیا لیکن فلم بنانے کے دوران میں اصل ہدایت کار اور پروڈیوسر کے جھگڑے کے باعث ہدایتکار فلم چھوڑ کر چلتا بنا۔ مجبوراً پروڈیوسر ’اوائیڈو ‘نے فلم کی ہدایت کاری جیمز کے حوالے کر دی۔ جیمزنے جی جان سے فلم کو اچھا بنانے کی کوشش کی۔ یہ ایک ہارر فلم تھی۔

فلم کے دوران ہی پروڈیوسر نے جیمز پر عدم اعتماد کا اظہارکر دیا۔ پروڈیوسر اسے ایک فنکار کا کلوزاپ لینے کو کہہ رہا تھا لیکن جیمز باوجود کوشش کے اس کا قریب سے شاٹ نہیں بنا پایا۔ اسی کوشش میں سارا دن ضائع ہو گیا۔ اگلا دن بھی ضائع ہو گیا۔

پروڈیوسر نے جیمز کو دھکے دے کر سیٹ سے نکال دیا لیکن کچھ دیربعد پھر بلا لیا اور بطور معاون ساتھ رکھا لیکن یہاں پھر مسئلہ ہو گیا اور وہ یہ کہ کیمرون فوڈ پوائزننگ کا شکار ہو گیا۔ اب کیمرون کوئی کام نہیں کرسکتا تھا یعنی معاونت کی مزدوری بھی گئی۔ یہ بدترین وقت تھا اس سے زیادہ ناکامی ہو نہیں سکتی تھی اور اس وقت جیمز زندگی کی 28 بہاریں دیکھ چکا تھا۔

ڈراؤنا خواب اسی دوران میں جب وہ شدید بیمار اور پیٹ درد کا شکار تھا اس نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا۔ اس نے دیکھا کہ ایک لوہے کا انسان اس کے اوپر چڑھ دوڑا ہے۔ شاید یہ مسلسل ناکامی اور پروڈیوسر کا خوف تھا جو ایک خواب کی صورت میں اس کے تخیل میں جلوہ گر ہوا لیکن اُمید پرست جیمز کو یہی ڈراؤنا خواب آسمان کی بلندیوں پر لے گیا۔ جیمز نے اسی لوہے کے انسان کو اپنی اگلی فلم کا موضوع بنانے کا فیصلہ کر لیا۔

اور وہ ایک ڈالر میں بک گیا جیمزنے خواب میں دیکھا کہ ایک لوہے کا انسان اسے مارنے کے لیے آرہا ہے۔ اسی موضوع پر اس نے ایک فلم لکھ ڈالی۔ فلم میں مستقبل سے لوہے سے ڈھلا انسان زمین پر آن وارد ہوتا اور اودھم مچا دیتا ہے۔ اس وقت تک ایسی چیزیں کسی نے نہیں دیکھی تھیں۔ اسے کیسے بنانا ہے، یہ بھی جیمز نے پلان کر لیا لیکن بجٹ پلان نہ کرسکا کیونکہ اس کے لیے بہت زیادہ رقم چاہیے تھی جو ظاہر ہے جیمز کے پاس بالکل نہیں تھی۔

اس کے لیے اس نے مختلف پروڈکشن کمپنیوں سے رابطہ کیا۔ سب کمپنیوں نے فلم کی کہانی کو پسند کیا اور اس کو خریدنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا لیکن وہ جیمز کے ماضی کو دیکھتے ہوئے اسے بطور ہدایت کار لینے کو تیار نہیں تھے اور جیمز کیمرون اپنی کہانی کو خود ہی ڈائریکٹ کرنا چاہتا تھا۔ ایسے میں اُسے یادآیا کہ ناکامیوں کے دور کی ایک دوست گیل ہرڈ بہت امیر ہو چکی ہے اور اس نے بھی ایک فلم پروڈکشن کمپنی بنائی ہے کیوں نہ اس کے پاس قسمت آزمائی جائے۔

جیمز قسمت آزمانے اس کے پاس پہنچ گیا۔ دوست نے دوستی کی لاج تو رکھی اور جیمز کی کہانی پر فلم بنانے کے لیے رقم لگانے کا اعلان کیا۔ اسے ہدایت کار لینے کا بھی اقرار کیا لیکن کہانی اور ہدایت کاری کے عوض اسے ایک پھوٹی کوڑی دینے سے صاف انکار کیا۔ صرف کاغذی کارروائی کے لیے اس کے معاوضے کے خانے میں ایک ڈالر لکھ دیا گیا۔ جیمز ہر کامیاب انسان کی طرح اپنی ناکامی کے دنوں میں بھی جانتا تھا کہ اسے ایک دن کامیاب ہونا ہے لہٰذا وہ مان گیا اور کام شروع کردیا۔ اور یہ فلم تھی ٹرمینیٹر ون۔

فلم کی پروڈکشن کے بعد جب سینما گھروں میں تقسیم کرنے والی کمپنیوں سے رابطہ کیا گیا تو سب نے کہا کہ یہ ایک ہفتے سے زیادہ نہیں چلے گی۔ اس لیے اسے کم قیمت میں خریدا گیا لیکن فلم جیسے ہی سینما گھروں میں چلنا شروع ہوئی تو ایک تہلکہ مچ گیا۔ وہ فلم جسے بنانے میں ہر طرح سے بچت کرتے ہوئے صرف 64 لاکھ ڈالر میں تیار کیا گیا تھا اس فلم نے 8 کروڑ ڈالر کما لیے۔

فلم ڈسٹری بیوشن کمپنی، پروڈیوسر اور فلم کی کاسٹ جیمز کیمرون کی دیوانی ہو گئی۔ فلم کی پروڈیوسر جس نے جیمز کی شاندار کہانی اور ہدایت کاری کے بدلے اسے پھوٹی کوڑی دینے سے انکار کر دیا تھا اس کی بیوی بننے کو تیار ہو گئی۔ اس نے جیمز سے شادی کر لی اور اپنے شوہر کے قدموں میں اپنی ساری دولت رکھ دی۔ بس اب کیا تھا جیمز نے ایک کے بعد ایک سپر ہٹ فلم بنانا شروع کر دی۔

پھر سمندر کی تہہ میں جیمز کو سمندر کی تہہ بہت متاثر کرتی تھی۔ وہ اسے دیکھنا چاہتا تھا۔ یہی شوق اسے ٹائی ٹینک پر فلم بنانے کی طرف لے گیا۔ اس نے ایک جاندار کہانی لکھی اور پھر سمندر میں کود گیا۔ اس نے بحراوقیانوس میں ڈوبے جہاز کو خود کئی بار دیکھا اور اسی دوران سمندر کی تہہ میں بیٹھ کر فلم کے بیشتر مکالمے بھی لکھے۔

سب تیاری مکمل کر کے جب کیمرون صاحب بجٹ کا حساب لگانے لگے تو پتا چلا کہ اس فلم کے لیے تو 20 کروڑ ڈالر سے زیادہ رقم چاہیے لیکن اب جیمز کیمرون کو ہر کوئی ایک کامیاب ہدایت کار مانتا تھا، اس لیے بہت سے پروڈیوسر اور فلم اسٹوڈیو بجٹ لگانے پر تیار تھے لیکن ایک چھوٹا سا مسئلہ ضرور تھا اور وہ یہ تھا کہ فلم صرف مہنگی نہیں تھی بلکہ بہت بہت مہنگی تھی۔

اتنی مہنگی کہ آج تک کبھی کسی نے اس بجٹ کی فلم بنانے کے بارے میں کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ یہ 1997 کی بات ہے۔ جیمز کے دلائل دینے پر پروڈیوسر نے جوا کھیل دیا۔ ٹائی ٹینک جب سینما گھروں میں چلی تو اس کی کامیابی نے ہالی وڈ میں فلم سازی کا انداز ہی بدل دیا کیونکہ اس فلم نے ہالی وڈ کو اِتنا منافع دیا جس کا کبھی اس نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔ یہ فلم آج کی تاریخ تک 2 ارب 29کروڑ ڈالر سے زیادہ منافع کما چکی ہے جبکہ اس کی ڈی وی ڈی اور سینما فروخت اب بھی جاری ہے۔

دس سال کی خاموشی جیمز کیمرون نے اس بے مثال کامیابی کے بعد 10 سال تک سینما سکرین کا رُخ نہیں کیا بلکہ بچوں کے لیے ٹی وی پر سائنس فکشن سیریز بناتا رہا لیکن اس دوران اس کے دماغ میں ایک اور ہی دنیا کی کہانی سمائی ہوئی تھی۔ گو کہ یہ کہانی وہ 1994ء میں لکھ چکا تھا۔

وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتا تھا جس میں کسی دوسری دنیا کی مخلوق دکھائے جسے انسانوں سے خطرہ لاحق ہے لیکن جیسے مناظر فلمانے کا وہ تصور کر بیٹھا تھا اکیسویں صدی کے آغاز تک ایسی کوئی ٹیکنالوجی ایجاد نہیں ہوئی تھی جو انھیں بنا سکے۔ یہاں اس کی فزکس کی صلاحیتیں کام آئیں۔ اس نے ایک ایسا کیمرا ڈیزائن کیا جو ہمہ جہتی ویڈیو بنا سکتا تھا۔

اس کے ساتھ ہی اس نے جدید تھری ڈی ٹیکنالوجی متعارف کروائی جسے دیکھا جا سکتا ہے فی الحال لفظوں میں سمجھانا تھوڑا مشکل ہے۔ بس یوں سمجھیں کہ فلم سکرین محض سکرین نہیں رہتی بلکہ آپ خود کو فلم کے سیٹ کے اندر بیٹھا محسوس کرتے ہیں جیسے سب کچھ آ پ کے اردگرد ہو رہا ہو۔

اوتار اس تمام جدت کے ساتھ جیمز نے اوتار بنانے کا منصوبہ مکمل کر لیا۔ اس کا 12 سالہ انتظار ختم ہوا اور 2009 میں اسی کہانی پر اوتار فلم بنا ڈالی۔ گوکہ یہ فلم بھی بہت مہنگی بنی اور اس پر 30کروڑ ڈالر خرچ اٹھا لیکن اس فلم نے ٹائی ٹینک کا ریکارڈ بھی توڑ ڈالا۔

یہ فلم دنیا کی تاریخ میںآج تک کہی جانے والی، پڑھی جانے والی اور دیکھی جانے والی کہانیوں میں سب سے زیادہ کماؤ پوت کہانی ثابت ہوئی۔ اس نے 2 ارب 78کروڑ ڈالر سے بھی زیادہ منافع کمایا اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

سخت گیرلیڈر جیمزکے ساتھیوں کو اس سے ہمیشہ شکایت رہی۔ اس کی یادگار فلم ٹائی ٹینک میں کام کرنے والی مرکزی اداکارہ کیٹ ونسلیٹ نے فلم کے بعد بیان دیا کہ وہ زندگی میں کبھی دوبارہ جیمز کے ساتھ کوئی فلم سائن نہیں کرے گی لیکن جیمز کہتا ہے کہ وہ جب تک مطمئن نہیں ہوگا، سیٹ نہیں چھوڑے گا، خواہ اُس کی یا کسی اور کی جان چلی جائے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *