پانچ منٹ اور زندگی آسان

ہم میں سے بہت سے لوگ زندگی میں وہ بڑی کامیابی حاصل نہیں کر پاتے جو وہ کرنا چاہے ہیں۔ کوئی بہترین مصور بننا چاہتا ہے، کوئی اپنی جاب میں ٹاپ لیول اچیو کرنا چاہتا ہے، کوئی گلوکار تو کوئی کامیاب بزنس مین بنناچاہتا ہے۔ لیکن وہ نہیں بن پاتا۔۔۔ جانتے ہیں کیوں؟؟؟؟ کیونکہ اس کا خود پر یقین کم پڑ جاتا ہے۔ اور خود پر یقین جانتے ہیں کیوں کم پڑ جاتا ہے ؟؟؟  کیونکہ ہم خود سے زیادہ اپنے اردگرد کی باتوں پرزیادہ توجہ دینے لگتے ہیں۔ اس سے بچنے کا ایک فارمولا ہے۔

Never Take anything personal

کسی برے تبصرے کو سنجیدہ مت لیں

ہم میں سے ہر شخص اپنے اندر ایک کائنات لیے پھرتا ہے۔ یہ کائنات اس کے ماضی،حال، تعلیم، صحت اور تربیت سے بنتی ہے۔ جب وہ بولتا ہے تو دراصل اپنے اندر موجود کائنات کا ایک عکس ہمیں دکھاتا ہے۔ فرض کریں آپ ایک اچھے مصور بننا چاہتے ہیں اور آپ ایک تصویر بناتے ہیں لیکن آپ کا کوئی دوست اسے دیکھتے ہی کہتا ہے ’’کیا گند مارا ہے تم نے کنوس پر!‘‘ 

یا آپ کامیاب کاروبار کے لیے ایک آئیڈے پر کام کر رہے ہیں اور آپ کو کوئی کہتا ہے کہ ’’ارے بھائی یہ فضول آئیڈیا نہیں بکنے والا!‘‘۔

یہ دونوں اشخاص دراصل آپ سے  کچھ نہیں کہہ رہے یہ اپنے اندر موجود کائنات کا عکس دکھا رہے ہیں۔ کیونکہ ان کے خیال میں یہ تصویر یا آئیڈیا فضول ہے۔ اگر آپ نے انھیں سنجیدگی سے لے لیا تو سمجھیے آپ کی بہت سی توانائی دوسرے کے خیالات سے لڑنے میں ضائع ہونا شروع ہو جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ یہی توانائی دراصل آپ کا کل اثاثہ ہے۔ تواس کا ایک اونس بھی بھلا ضائع کیوں کریں۔  لہذا کسی بھی رائے کو یا تبصرے کو سنجیدگی سے مت لیں۔ کیونکہ ایک خوش باش اور کامیاب شخص ایک ہی چیز کے بارے میں ایک رائے دے گا، جبکہ اسی چیز کے بارے میں ایک ناکام اور منہ چڑھا شخص دوسری رائے دے گا۔ اس لیے پرسکون رہیں۔ اپنا کام کرتے رہیں۔ 

کسی اچھے تبصرے کو بھی ہر بار سنجیدگی سے مت لیں

یہ فارمولا صرف بری رائے تک ہی محدود نہیں۔ بلکہ کسی کی تعریف کو بھی پرسنل مت لیں۔ کیونکہ تعریف کرنے والا بھی دراصل اپنے اندر موجود کائنات کا ہی اظہار کر رہا ہوتا ہے۔ اسے بھی مسکرا کر سنیں اور اپنا کام کرتے چلے جائیں۔ اچھی رائے کو بھی پرسنل لینا شروع کریں گے تو بہت سی غلط فہمیوں کا شکار ہو جائیں گے۔ صرف اپنی زندگی کے مقصد اور اپنے راستے کو جو آپ نے خود سوچ سمجھ کر چنا ہے سنجیدگی سے لیں اور ان مشوروں کو سنجیدگی سے لیں جو آپ نے اپنے پر اعتماد دوستوں، بہی خواہوں اور سنجیدہ لوگوں سے خود سوچ سمجھ کر لیے ہیں۔ 

اپنے ذہن میں اٹھنے والے خیالات کو بھی سنجیدہ مت لیں

اپنے ذہن میں اٹھنے والے بے شمار خیالات کو بھی سنجیدگی سے نہ لیں۔ کیونکہ ہمارا دماغ بھی روزانہ کروڑوں تصویریں اور آوازیں  محفوظ کرتا ہے۔ اور اس کے مختلف حصے ہر وقت ایک دوسرے سے معلومات کا تبادلہ کر رہے ہوتے ہیں۔ جو سنا جو دیکھا اسے خلط ملط کرتے رہتے ہیں جس سے مختلف خیالات جنم لیتے رہتے ہیں۔ آپ نے ان خیالات کا قیدی نہیں ہو جانا۔ بلکہ ان خیالات کو کنٹرول کرنا ہے۔ صرف اس ایک خیال یا خیالات کو توجہ دینا ہے جسے آپ توجہ دینا چاہتے ہیں۔ ہر خیال کو توجہ دینے لگے تو دماغ کے قیدی بن جاؤ گے اور زندگی کا سکون ایک بار پھر کھو بیٹھو گے۔ 

آخر سنجیدہ لیں کسے پھر؟

آپ سوچیں گے کہ اگر برے، اچھے اور اپنے ہی ذہنی خیالات کو سنجیدگی سے نہیں لینا تو پھر کس کو سنجیدگی سے لینا ہے۔ صرف اور صرف اس خیال کو سنجیدگی سے لیں جسے آپ نے بہت اچھے سے سوچ سمجھ کر، اپنے قابل اعتماد لوگوں سے مشورے کے بعد کاغذ پر لکھ کر اپنے پاس محفوظ کر لیا ہے۔ جو آپ کی منزل ہے۔ 

اس ایک فارمولے کی پریکٹس کریں اور اپنی زندگی پر لاگو کریں۔ پھر دیکھیں زندگی میں کتنا سکون لوٹ آئے گا۔  آپ کا اپنی منزل کی طرف سفر کتنا تیز اور کتنا پرسکون اور کتنا فوکس  ہو جائے گا۔ کیونکہ اب آپ کی توانائیاں لوگوں کے اچھے برے تاثرات کی جانچ پڑتال میں ضائع ہونے کے بجائے۔ اصل کام میں لگیں گی۔

Never Take Anything Personal

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہمیشہ مسکراتے رہیے 

(یہ آئیڈیا The Four Agreement کتاب سے لیا گیا ہے، جسے میکسکو کے مصنف Don Miguel Ruiz نے لکھا ہے۔)

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *