انقلاب ناگزیرہوتاہے،مگر۔۔۔

انقلاب کی تاریخ یہ ہے کہ جب معاشرہ اپنے غلط نظریات کے باعث کسی بند گلی میں پہنچ جاتا ہے تو انقلاب ناگزیر ہو جاتا ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ وہ مسائل حل کرے گا یا نہیں۔ لیکن وہ سٹیٹس کو کو ضرور توڑ دیتا ہے۔ جس سے ایک افراتفری جنم لیتی ہے۔ اس افراتفری کے بطن سے مزید افراتفری کے بجائے کچھ اچھا نکل آئے۔۔۔ اس کے لیے ایک اور انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ انقلاب اس خواب سے بہت مختلف ہوتا ہے جس کا سٹیٹس کو توڑنے والوں نے خواب دیکھا ہوتا ہے۔ آخر کار یہ انقلاب کس کروٹ بیٹھے گا اس کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کون زیادہ طاقت حاصل کر کے باقیوں پر فتح پا لیتا ہے۔ پاکستان میں آج ہمیں آزادی ہے کہ ہم اس گلے سڑے نظام کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ بادشاہ کو جتنی چاہےگالیاں دے سکتے ہیں۔ کچھ سال بعد ووٹ کے ذریعے اٹھا کر پرے پھینک سکتے ہیں۔ یہ اتنی بڑی تبدیلی ہے کہ تمام عرب ریاستیں اس کے دسویں حصہ کا انقلاب بھی کئی دہائیوں اور ہزاروں لاشے گرانے کے بعد بھی حاصل نہیں کر سکے۔ اور مستقبل قریب میں بھی کوئی چانس نظر نہیں آ رہا۔ لیکن پاکستان میں یہ بات اب طے ہے کہ جو پرفارم نہیں کرے گا وہ اگلا الیکشن بری طرح ہار جائے گا۔ خدارا اس تبدیلی کو قدرتی راستے سے قدرتی طریقے سے آنے دیں۔ جلد بازی ہمیں مزید افراتفری اور معاشی انارکی کی طرف دھکیل دے گی۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *