سلویسٹرسیلون، سپرسٹار کیسے بنا

سیلویسٹر سیلون کہتا ہے کہ اس نے بہت پہلے طے کر لیا تھا کہ وہ مووی کا سپراسٹار بنے گا۔ یہ خواب لے کر وہ بہت سے پروڈیوسرز کے دروازوں پر گیا لیکن اسے کام نہیں ملا اس دوران اس نے نوکری بھی نہیں کی۔ اس کی بیوی اسے نکھٹو اور نکما کہتی رہی ، اور کہتی رہی کہ کوئی نوکری کر لو، ایکٹنگ نہیں ملتی تو کوئی اور کام کر لو۔ سیلوسٹر سیلون جواب دیتا، اگر میں نے آج اپنے پیٹ کی بھوک مار دی تو سپر سٹار بننے کی بھوک بھی مر جائے گی۔ وہ بڑی سکرین کا سپر اسٹار بننے کا خواب لیے پروڈیوسرز کے دروازوں پر جاتا رہا، آخر ایک پروڈیوسر نے اسے اپنی فلم میں بیس سیکنڈ کا رول دے دیا۔ اسے ہیرو سے ایک مکا کھانا تھا سو اس نے کھایا۔ اس کے بعد پھر ایک لمبی ناکامی ایک لمبی خاموشی۔ اس کی بیوی اسے طعنے دے دے کر تنگ آ کر چھوڑ کر چلی گئی۔ اسے اپنا پیارا کتا صرف اس لیے بیچنا پڑا کہ سیلوسٹر سیلون کے پاس کتے کو کھلانے کیلئے کچھ نہیں تھا۔ یہ کتا اس نے خبطی بوڑھے کو صرف پچاس ڈالر مین بیچا۔ سیلوسٹر سیلون کہتا ہے میں اس دوران میں نے محمد علی کی ایک فائٹ دیکھی۔ اس لڑائی کو دیکھنے کے بعد اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔ وہ کاغذ قلم لے کر بیٹھ گیا اور مسلسل 20 گھنٹے لکھتا رہا۔ یہ ایک فلم کا سکرپٹ تھا، جسے لکھنے کے بعد وہ خوشی سے کانپ رہا تھا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ اس نے اپنا ماسٹر پیس تیار کر لیا ہے۔ یہ سکرپٹ لے کر وہ ایک ہزار پانچ سو پروڈیوسرز کے پاس گیا۔ لوگ اس کی فلم کا سکرپٹ دیکھتے اور ہستے کہ یہ کوئی سکرپٹ ہے، ایک پروڈیوسر نے ایک لاکھ ستائیس ہزار ڈالر میں سکرپٹ خریدنے کی حامی بھری، لیکن جانتے ہیں سیلوسٹر سیلون نے کیا کہا؟ اس نے کہا اس فلم کا ہیرو بھی میں ہی بنوں گا۔ پروڈیسر کی ہنسی نکل گئی، اس نے طنر کے تیز تیر برسائے اور کہا اپنا ایکسنٹ دیکھا ہے تم نے ، ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے بولتے ہو تم۔ سمجھ نہیں آتی تم کیا بول رہے ہو، میں پیسا تم پر لگاؤں گا؟ پاگل ہوں میں؟ سیلوسٹر سیلون نے کہا ٹیک اٹ اور لیو اٹ، ہیرو تو میں ہی آؤں گا۔ ایک اور پروڈیوسر نے پانچ لاکھ ڈالر میں سکرپٹ خریدنے کی حامی بھری، لیکن سیلوسٹر سیلون نے صرف سکرپٹ بیچنے سے انکار کر دیا۔ اور شرط عائد کی کہ اسے ہی بطور ہیرو کاسٹ کیا جائے۔ اس دروان سیلوسٹر سیلون باقاعدہ سڑک چھاپ بھوکا ہو چکا تھا۔ آخر کار ایک پروڈیوسر نے سیلوسٹر سیلون کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صرف پنتیس ہزار ڈالر میں سکرپٹ خریدا اور اسے بطور ہیرو کاسٹ کیا۔ گیارہ لاکھ ڈالر میں راکی بنی اور اس فلم نے بائیس لاکھ ڈالر کمائے۔ سیلوسٹر کو پیسے ملے تو وہ سب سے پہلے اس خبطی بوڑھے کے پاس گیا جسے اس نے اپنا پیارا کتا بیچا تھا۔ تین دن انتظار کے بعد وہ خبطی بوڑھا ملا لیکن بوڑھے نے کتا بیچنے سے انکار کر دیا۔ سیلوسٹر سیلون نے پہلے پانچ سو ڈالر، پھر ہزار ڈالر اور پھر دو ہزار ڈالر کی پیش کش کی لیکن وہ نہیں مانا۔ آخر سیلوسٹر سیلون نے اسے تین ہزار ڈالر اور اپنی اگلی فلم میں کاسٹ کرنے کی پیشکش کی۔ خبطی بوڑھا حیرت سے مان گیا۔ اور یوں سیلوسٹر سیلون کو اپنا پیارا کتا واپس ملا۔ پھر روکی ٹو اور تھری بھی بنی اور فلموں نے دو بلین ڈالر سے زیادہ بزنس کیا۔ اور سیلوسٹر سیلون، روکی سپر اسٹار بن گیا۔ جب ایک بار سیلوسٹر سیلون کو ایوارڈ کی تقریب میں مدعو کیا گیا تو سیلوسٹر سیلون نے جیب سے ایک پرچی نکالی۔ اس پرچی پر وہ تمام طنزیہ جملے لکھے ہوئے تھے جو مختلف پروڈیوسر اس کے لیے کہتے رہے تھے۔ سیلوسٹر سیلون نے وہ تمام جملے پڑھے۔ اور کہا کہ اپنی  ناکامی کے دنوں میں یہ جملے روز پڑھتا تھا اور سوچتا تھا کہ میں انھیں غلط ثابت کر کے دکھاؤں گا۔ 

کامیابی بہترین انتقام ہے۔ کامیاب اور ناکام لوگوں میں یہی فرق ہے۔ ناکام لوگ چند ایک بار ناکامی کا منہ دیکھ کر ہمت ہار دیتے ہیں۔ کامیاب لوگ ہر ناکامی سے ایک سبق سیکھتے ہیں اور اس پر قابو پاتے ہیں اور اس کے اوپر چڑھتے ہیں اور آگے بڑھ جاتے ہیں۔ ہو کامیابی کے دروازے کھولتے جاتے ہیں اور آخر کار سپر اسٹار بن جاتے ہیں، اپنی اپنی فیلڈ کسے سپر اسٹار۔۔ کامیابی بہترین انتقام ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *