وہ جنھیں زندگی سے پیار ہے

جو زندگی سے پیار کرتے ہیں جو ہنسی خوشی جیتے ہیں
جو زندگی سے پیار کرتے ہیں جو ہنسی خوشی جیتے ہیں

ہم میں سے ہرشخص بہرحال خوش رہنا چاہتا ہے۔ دولت محنت اور تعلیم کابالاخر مقصد یہی ہوتا ہے کہ اپنے لیے اور اپنے گرد کے لوگوں کیلئے خوشیاں سمیٹنی جائیں۔ مشکل حالات اور تنگدستی میں زیادہ تر لوگ پریشانی کو عادت بنا لیتے ہیں۔ لیکن آپ نے ضرور ایسے لوگ دیکھے ہوں گے جو خراب تر حالات میں بھی خوش باش رہتے ہیں۔  دراصل وہ زندگی کے کچھ سادا سے اصول شعوری یا لاشعوری طور پر جانتے ہیں۔ خوش باش زندگی کے یہ اصول سیکھ کر آپ بھی ہر قسم کے حالات مین خوش رہنا سیکھ سکتے ہیں۔ اور یاد رکھیں جو مسکرا کر گزر گیا وہی لمحہ ہمارا ہے۔

1-وہ یہ مان کر جیتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے

گو کہ بہت گھسی پٹی بات ہے لیکن سچ یہی ہے کہ خوش باش رہنے والے لوگ جانتے ہیں کہ زندگی مختصر ہے اس لیے وہ اس کے ہر لمحے کو قیمتی سمجھتے ہوئے اسے بھرپور طریقے سے گزارتے ہیں۔ زندگی میں ملنے والی ہر چھوٹی سے چھوٹی آسائش اور خوشی کو دل کھول کر سینے سے لگاتے اور یاد رکھتے ہیں۔

2۔ وہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کیلئے اوٹ پٹانگ حرکتیں نہیں کرتے

خوش و خرم لوگ مرکز نگاہ اور جان محفل بنے رہنے کی تمنا میں نہیں ہوتے۔ وہ اپنے حالات میں خوش رہتے ہیں۔ اگر کسی جگہ جان محفل بن جائیں تو صرف جان محفل بنے رہنے کے لیے اوٹ پٹانگ یا مطلوبہ حرکتیں نہیں کرتے بلکہ وہی کرتے ہیں اور ویسے ہی نظر آتے ہیں جیسے کہ وہ ہیں۔

3- وہ خرچ کرنے میں سمجھداری دکھاتے ہیں

امارت اور غربت سے قطع نظر وہ خرچ کرنے سے پہلے ایک بار سوچتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ خالی جیب اور سر پر سوار قرض سے زندگی میں تناؤ بڑھتا ہے۔ اس لیے وہ اپنے خرچ اور آمدن میں توازن رکھتے ہیں اور اس مقصد کے لیے خرچ کرنے سے پہلے چند لمحے سوچ کر اچھا فیصلہ کرتے ہیں۔

4- وہ اپنے جذبات کا خیال رکھتے ہیں

دوسروں کے لیے جینا اور ان کی مشکلات میں مدد کرنا بہت اچھا ہے۔ اس سے ہمیں خوشی ملتی ہے۔ لیکن بہت سے لوگ ایسی کوششوں میں یہ بھول جاتے ہیں کہ ان کے اپنے جذبات اور خیالات بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے دوسروں کے۔ اس لیے خوش باش لوگ اپنے جذبات کا بھی خیال رکھتے ہیں۔ ان کے اظہار اور تکمیل کے لیے وقت اور وسائل پیدا کرتے ہیں۔

5-  وہ اپنی دنیا کے بادشاہ ہوتے ہیں

اس کو یوں سمجھئے کہ وہ کسی کی بدتمیزی یا غصہ دلانے کی وجہ سے اپنی زندگی میں تبدیلیاں نہیں کرتے۔ وہ اپنی دنیا کو اپنی مرضی کے مطابق گزارتے ہیں۔ یعنی اپنی زندگی کے بادشاہ ہوتے ہیں۔ کوئی انھیں ان کی مرضی کے بغیر غصہ بھی نہیں دلا سکتا اور لڑنے پر مجبور بھی نہیں کر سکتا۔ اپنی زندگی سے پیار کرنے والے لوگ اپنی زندگی میں جو کچھ تبدیل کر سکتے ہیں انھیں تبدیل کر لیتے ہیں اور جو کچھ تبدیل تبدیل نہیں کر سکتے اسے جوں کا توں قبول کر کے اس میں جینے کا راستہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ منفی جذبات اور خیالات کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتے بلکہ انھیں گزر جانے دیتے ہیں اور جذبات سے مغلوب ہوئے بغیر اپنی زندگی کے چھوٹے بڑے فیصلے کرتے ہیں۔

6- وہ حادثات سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے

 زندگی سے پیار کرنے والے لوگ جانتے ہیں کہ کئی بار غیر متوقع حادثات یا واقعات پیش آ جاتے ہیں۔ ان سے گھبرانا نہیں چاہیے بلکہ انھیں زندگی کا حصہ سمجھ کر انھی میں سے راستہ نکالا جاتا ہے۔ وہ ان واقعات سے وقتی طور پر متاثر ہو بھی جائیں تو کچھ دیر بعد اپنے اپنی خوش و خرم زندگی میں لوٹ آتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں ’’جو مسکرا کے گزر گیا وہی لمحہ ہمارا ہے۔‘‘

7- وہ جذبات کو اپنے قابو میں رکھتے ہیں

کسی کے غصہ دلانے پر اشتعال میں آ جانا تو عام سی بات ہے لیکن خوش باش لوگ یہ نہیں کرتے۔ کسی کے گھور کر دیکھنے پر وہ لڑنے کے لیے راستے میں رک نہیں جاتے۔ کسی کی بیہودہ بات پر اپنی شائستگی چھوڑ نہیں دیتے بلکہ اپنے جذبات کو اپنی مرضی سے استعمال کرتے ہیں۔

8- وہ اپنے فیصلوں اور نتائج کی ذمہ داری لیتے ہیں

ہم سب غلطیاں کرتے ہیں۔ خوش و خرم لوگوں کی خصوصیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے فیصلوں کے نتیجے میں رونما ہونے والے واقعات کی ذمہ داری لیتے ہیں۔ اگر اچھا نتیجہ آئے تو خوش ہوتے اور خوشی بانٹتے ہیں۔ اگر برا نتیجہ آئے تو اپنے رویے اور طریقہ کار کو مثبت انداز سے تبدیل کرتے ہیں۔ اگر اپنے کسی کام سے کسی دوسرے کو نقصان ہو جائے یا خود غلط ثابت ہو جائیں تو معذرت کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتے۔

9- وہ اپنے مذاج کے مطابق روزگار تلاش کرتے ہیں

خوش باش لوگ اپنے روزگار کو اپنا شوق بنا لیتے ہیں یا پھر اپنے شوق کو روزگار بنانے کا طریقہ ڈھونڈ لیتے ہیں۔ وہ ایسا نہیں کرتے کہ جہاں سے کمائی کرتے ہیں اسی کو دن رات برا بھلا کہتے رہیں۔ اگر ان کا دل اپنے ذریعہ روزگار میں نہیں لگتا تو وہ تگ و دو کر کے اپنی پسند کا ذریعہ روزگار تلاش کر لیتے ہیں اور پھر ناپسندیدہ جگہ کو چھوڑ دیتے ہیں۔

10- وہ اچھے خیالات پیدا کرتے رہتے ہیں

کچھ لوگ اپنے خیالات کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ خیالات ہمیں اپنے معاشرے، گھر، دوستوں اور ان کتابوں یا فلموں سے ملتے ہیں جو ہمیں پسند ہوتی ہیں۔ خوش باش لوگ اپنے ذہن میں آنے والے خیالات کو چھلنی سے گزارتے رہتے ہیں۔ منفی خیالات کو ٹھوکر مار کر ذہن سے پرے بھگا دیتے ہیں اور اچھے خیالات کو بار بار دہرا کر پختہ کرتے جاتے ہیں۔ اس طرح ان کے چہرے پر رونق اور ہونٹوں پر تبسم کھیلتا رہتا ہے۔

11- وہ اچھے لوگوں کی صحبت میں رہتے ہیں

’’انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے‘‘ پرانی کہاوت ہے اور اتنی ہی قیمتی ہے جتنی پرانی ہے۔ خوش و خرم زندگی گزارنے والے لوگ چونکہ خوش و خرم رہنا چاہتے ہیں اس وہ نک چڑے اور منہ بسورے لوگوں کے ساتھ وقت نہیں گزارتے۔ وہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے اردگرد پرعزم اور خوش باش لوگوں کو جمع رکھیں یا ایسے لوگوں کے خود قریب ہو جائیں۔

12- وہ تنہائی اور محفل دونوں سے محظوظ ہوتے ہیں

خوش باش لوگ اس بات کی زیادہ پروا نہیں کرتے کہ انھیں ہر وقت باوفا لوگوں کا جھرمٹ ملے۔ وہ تنہائی میں بھی خوش رہتے ہیں کچھ کرنے میں وقت گزارتے ہیں۔ اس کے برعکس وہ تنہائی ٹوٹنے پر سیخ پا بھی نہیں ہوتے بلکہ مجلس میں حاضرین کی باتوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔

13- وہ اپنے آپ کے بھی دوست ہوتے ہیں

نرگسیت یعنی اپنی ذات سے عشق اچھی چیز نہیں۔ لیکن اپنی ذات کو گم کر دینا بھی مناسب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ خوش و خرم اور کامیاب لوگ اپنے آپ کو بھرپور وقت دیتے ہیں۔ اپنی چھوٹی سے چھوٹی کامیابی پر بھی خود کو شاباش دیتے ہیں۔ اور اپنی بیماری اور پریشانی کے حل کے لیے فی الفور کام کرتے ہیں۔ وہ خود کو اچھا سمجھتے ہیں اور خود کے اچھے دوست ہوتے ہیں۔

اگر آپ اپنی زندگی سے پیار نہیں کرتے تو کوئی بات نہیں۔ آج سے شروع کر دیجیئے۔ ان تیرہ میں سے دو طریقے آج اپنا لیجئے اور اپنی زندگی کا لطف اٹھائیے۔ کیونکہ جو مسکرا کے گزر گیا وہی لمحہ ہمارا ہے۔

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *