مسافر جوکبھی لوٹ کر نہ آئےگا

وائجرون کی خلا میں محوپرواز ہے

خلائی تحقیقات پرنہایت دلچسپ مضمون

اس وقت جب آپ یہ تحریر پڑھ رہے ہیں ایک سخت جان مسافر ہمار ے سورج کی سلطنت پار کر چکا ہے۔ یہ مسافر پینتیس سال قبل ہماری نیلی زمین سے ہی روانہ ہوا تھا۔ اور اس کھوجی کے سفر کا مقصد قدرت کے کئی سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانا تھا۔ یہ مسافر ساٹھ ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی تیزپرواز کرتا ہوا سورج کے گرد گھومنے والے تمام سیاروں اور سیارچوں سے آگے جا چکا ہے۔ میں آپ کو اسی ان تھک مسافر کی کہانی سنانے والا ہوں ۔

چاند سے آگے کے جہاں یہ بات ہے انیس سو ساٹھ کی دہائی کے آغاز کی۔ یہ ایسا دور تھا جب سائنس کی دنیا میں خلائی تحقیق کے آغاز کو صرف پندرہ برس ہوئے تھے۔ انسان ایک بار چاند پر قدم رکھنے کے لیے بے چین تھا۔

دنیا بھر کی گنی چنی خلائی تحقیق کی لیبارٹریاں دن رات ایسے مشن لانچ کرنے کی منصوبہ بندیاں کرتی تھیں جن کی مدد سے کسی طور چاند پر دوسروں سے پہلے پہنچا جا سکے یا کوئی ایسی مشین ہی تیار کی جائے جو چاند پر جائے اور پل پل کی خبریں کرہ ارض کی اس لیبارٹری میں بھیج سکے۔ ایسے میں کون سوچ سکتا تھا کہ دو سَرپھِرے ریاضی دان ایک ایسی مشین بنانے کا سوچ رہے ہیں جو خلا سے آگے، چاند سے پار، سورج کے سنہرے تھال سے بھی پرے چلی جائے گی۔

دیوانوں نے سوچا اور کر دکھایا مائیکل منووچ اور گیری فلنڈرو ، دو امریکی ریاضی دان تھے جو امریکی خلائی تحقیق کے سب سے معتبر ادارے ناسا میں خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ کسی بھی خلائی مشین کو خلا میں بھیجنے کے لیے بہت زیادہ ایندھن (پٹرول، گیس وغیرہ) کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس کی و جہ سے اس مشین کا وزن اور حجم بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ خرچ بھی ڈھیر سارا اٹھتا ہے۔

اسی لیے یہ دونوں سائنسدان ایک ایسی مشین کی تیاری کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہے تھے جسے کم سے کم ایندھن کے ساتھ خلا میں پہنچایا جا سکے تا کہ خرچ بھی کم اٹھے اور مشین کی جسامت بھی زیادہ نہ ہو۔ گیری فلنڈرو نے اس دوران خلائی تحقیق کی سب سے بڑی دریافتوں میں سے ایک دریافت کر ڈالی۔

اور وہ یہ کہ اگر سیاروں کی کشش ثقل کو استعمال کیا جائے تو ہم خلائی گاڑیوں کو زمین کے مدار سے نکالنے کے بعد بغیر کسی ایندھن کے بھی لامحدود فاصلوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ ایسے میں یہ دریافت بھی سامنے آئی کہ اگر ایک دہائی بعد یعنی انیس سو چھہتر اور انیس سو نواسی کے درمیان اگر کسی خلائی گاڑی کو مخصوص طریقے سے خلا کی مخصوص سمت میں پروازکرنے دیا جائے تو وہ بغیر کسی زمینی ایندھن کے مریخ، مشتری، زحل، نیپچون اور پلوٹو تک جاکر بآسانی تحقیقات کر سکتی ہے۔

مطلب یہ کہ سب سیاروں کے قریب سے گزر کر تصاویر اور دوسرے سگنلز ناسا لیبارٹری میں بلارکاوٹ بھیج سکتی ہے۔ یہ ایک غیرمعمولی دریافت تھی۔ لیکن اس میں ایک پیچیدگی بھی تھی۔ وہ یہ کہ ایسا صرف انہی تین سالوں کے دوران کیا جا سکتا تھا۔

یعنی انیس سو چھہتر سے انیس سو نواسی کے درمیان۔ کیونکہ انہی تین سالوں میں نظام شمسی کے بڑے سیارے ایک ایسی ترتیب میں مل سکتے تھے کہ اس ترتیب کو خلائی گاڑی سیڑھی کے طور پر استعمال کر کے تمام سیاروں کے گرد گھومتی ہوئی آگے بڑھ سکے۔

اگر یہ وقت ضائع کر دیا جاتا تو کائنات میں دوبارہ ایسا موقع ایک سو چھہترسال بعد ملنا تھا۔ چنانچہ کام کا آغاز اس طرح ہوا کہ ایک نہیں بلکہ اس مخصوص اور محدود وقت میں چار تحقیقاتی خلائی مشن بھیجنے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا۔ جو تمام سیاروں کے گرد گھوم کر مکمل معلومات زمین پر بھیجیں گے۔ لیکن اس مشن کے لیے جتنی رقم چاہیے تھی وہ امریکی کانگریس نے دینے سے انکار کر دیا۔

کیونکہ امریکا کو روس سے مقابلے کے لیے بہت سے جنگی ہتھیار چاہییتھے اور اس کے بجٹ میں خلائی تحقیق کے لیے زیادہ رقم نہیں تھی۔ لیکن ناسا نے ان تھک محنت کے بعد کانگریس سے چار کے بجائے دوخلائی مشن بھیجنے کا بجٹ منظور کروا ہی لیا۔

ان منصوبوں کو وائجر ون اور وائجر ٹو کا نام دیا گیا۔ وائجر ون کو خاص طور پر مشتری اور زحل کی تحقیق کے لیے تیار کیا گیا تھا۔ اور اس نے خلا میں سفر کرتے ہوئے زیادہ وقت ان سیاروں کے گرد گھومنا تھا۔ لیکن جب اسے ان سیاروں تک پہنچانے کے لیے راستوں اور وقت کا تعین ہونے لگا تو پتا چلا کہ اسے دس ہزار مختلف راستوں اور مختلف سمتوںسے بھیجا جا سکتا ہے۔

اس لیے جلد ہی وائجر ٹو کی تیاری بھی شروع کر دی گئی جو مشتری اور زحل پر زیادہ تحقیق کرنے کے بجائے ان تمام کے قریب سے گزرتا ہوا آگے نکل جائے گا اوراپنے راستے میں آنے والی ہر چیز کی معلومات زمین پر ناسا ہیڈکواٹر بھیجے گا۔ آج ہم نظام شمسی کے تمام سیاروں اور لاتعداد چاندوں کے بارے میں جو کچھ بھی جانتے ہیں اس کا بہت بڑا حصہ انہی دو مسافروں (وائجر ون اور ٹو)کی وجہ سے ہے۔

کائنات میں کوئی ہم جیسا ہے؟ شاید ہم کائنات میں تنہا نہ ہوں۔ کائنات میں شاید کوئی ہم جیسی ذہین مخلوق ہو۔ اسی خیال کی بدولت ان مسافروں کو ایسا سامان مہیا کیا گیا ہے کہ اگر ان کے راستے میں کوئی ایسی جگہ آئے جہاں کوئی ہم جیسی یا ہم سے زیادہ ذہین مخلوق بستی ہو تو وہ ہم سے رابطہ قائم کرے۔

وائجرٹوسیارے نیپچون کے قریب سےگزررہاہے

وائجر ون اور ٹو دونوں میں اسی مقصد کے لیے ایک ایک گولڈ پلیٹ لگائی گئی جس پر ہماری نیلی زمین ’دنیا‘ کے بارے میں اہم معلومات اشاروں میں درج ہیں۔ یہ سونے کی ایک گول پلیٹ ہے جس کے کور پر کچھ اشارے اور کور کے اندر ایک گول ڈسک ہے۔

جس پر آڈیو اور ویڈیو کی صورت میں بہت کچھ محفوظ کر دیا گیا ہے۔ گولڈ پلیٹ کی بیرونی پرت پر اشاروں کے علاوہ ایک دو سطری پیغام بھی درج ہے۔ تاکہ اگر کبھی یہ مسافر کسی ذہین خلائی مخلوق تک پہنچ جائیں یا وہ اسے پکڑ لیں اور پڑھ سکیں تو پڑھ لیں۔ اس پر لکھا ہے۔۔

’’یہ دوربسنے والی ایک چھوٹی سی دنیا کی طرف سے تحفہ ہے۔یہ ایک حوالہ ہے ہماری موسیقی، ہمارے احساسات، ہماری سائنس ، ہماری زندگیوں اورہماری آوازوں کا۔ ہم اپنے حصے کی زندگی جی رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ کے ساتھ بھی جئیں۔ ‘‘

وائجر ون اور ٹو میں ایک طویل صوتی پیغام بھی محفوظ ہے۔ جو ہر وقت بجتا رہتا ہے۔ اس میں دنیا کی باون زبانوں میں خوش آمدید کہا گیا ہے۔ اور یہ پیغام ہر وقت خلا میں نشر ہوتا رہتا ہے۔ ان باون زبانوں میں اردو، عربی اور پنجابی بھی شامل ہیں۔ یعنی آپ فخر سے کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت زمین سے اربوں میل دور کوئی ہے جو پکار پکار کر کہہ رہا ہے۔

’’السلام علیکم، ہم زمین پر رہنے والوں کی طرف سے آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔‘‘ یہ سو فیصد وہی فقرہ ہے جو مشین میں ریکارڈ کیا گیا۔ میں نے بہت کوشش کی کہ یہ بھی پتا چلا لوں کہ یہ آواز کس کی تھی لیکن ایسا ممکن نہ ہو سکا۔

اس کے علاوہ اس میں دنیا کی تقریباً تمام بڑی زبانوں میں ننانوے منٹ کی موسیقی بھی ریکارڈ کر کے چلا دی گئی ہے۔ اس موسیقی میں راگ بھیرویں میں ’جات کہاں ہو‘ـ بھی ایک ہے۔ صوتی ریکارڈنگ میں زمین پر پائے جانے والے چیدہ چیدہ جانوروں کی آوازیں بھی رکھی گئی ہیں۔ ان میں ایک آواز وہیل مچھلی کی بھی ہے۔

گولڈ پلیٹس دائیں میں نقشہ،بائیں میں آڈیوریکارڈز

دنیا چھوڑی اورمسافر چل پڑے اگست اور ستمبر1977ء میں دونوں خلائی کھوجیوں کوامریکی ریاست فلوریڈا سے ایک ایک کر کے ہمیشہ کے لیے الوداع کر دیا گیا۔ کیونکہ اب انھیں کبھی زمین پر واپس نہیں آنا تھا۔ تین ماہ میں دونوں مسافر مریخ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے آگے نکل گئے۔

وائجر ٹو کا مقصدزمین کے بعد آنے والے چار سیاروں ، مشتری، زحل، یورنیس اور نیپچون کے پاس سے گزرنا اور ان کی عمومی تحقیقی تصاویر اتارتے ہوئے آگے بڑھ جانا تھا۔ جبکہ وائجر ون کا مقصد خاص طور پر مشتری اور زحل کے گرد زیادہ دیررُکنا اور تحقیقات کرنا تھا۔ لیکن دونوں کو بہرحال تمام سیاروں کے قریب سے گزرتے ہوئے جانا تھا۔ جس دوران تصاویر بھی لینا تھا۔

برف کا چاند  وائجر ون کو مشتری تک پہنچناور یہ دریافت تھی مشتری کے ایک اوے میں صرف دو سال لگے۔ دو سال میں وہ نظام شمسی کے سب سے بڑے سیارے تک پہنچ گیا۔ اس کے ذمے پہلا کام مشتری کے چاندوں پر تحقیق کرنا، ان کی تصاویر بنانا اور وہاں موجود دھاتوں کا پتا لگانا تھا۔ اور اس سب کے لیے اس کے پاس صرف اڑتالیس گھنٹے تھے۔ مشتری کے گرد چار بڑے چاند ہیں۔ جن میں ’لوو ‘سب سے مشہور اور توجہ حاصل کرتا تھا۔

قدیم زمانے میں جب آسمان پر گرد کی موٹی تہہ اور رات کو مصنوعی روشنیاں نہیں جلتی تھیں تو تقریباً ہر انسان اس کا مشاہدہ کر لیا کرتا تھا۔ جس کی ایک وجہ اس کی چمک بھی تھی۔ وائجرون نے پہلی بار ہمیں یہ معلومات بھیجیں کہ’ لوو‘ پر سلفر کے آتش فشاں ہیں۔ سلفر انتہائی آتش گیر اور چمک دار مادہ ہے ۔ جو جلنے پر نیلی آگ پیدا کرتا ہے۔ جو بہت تباہی لاتی ہے۔ کیونکہ اسے پانی ڈال کر بجھانا ممکن نہیں ہوتا۔

اس کے علاوہ سلفر دواؤں اور سائنسی تجربات میں بھی بہت استعمال ہوتا ہے۔ تو جناب وائجر ون نے ہمیں بتایا کہ ’لوو‘ پر سلفر کے آتش فشاں ہیں جو ہمہ وقت سلفر اگلتے رہتے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی دریافت تھی کیونکہ اب تک انسان یہی سمجھتا تھا کہ آتش فشاں پہاڑ صرف زمین پر ہی پائے جاتے ہیں۔ لیکن اس دریافت نے خیالات تبدیل کر دیئے۔ اس کے علاوہ اسی برس وائجرون نے ایک اور بہت شاندار دریافت کی۔ جس کے بارے میں انسانیت پہلے رتی بھر بھی نہیں جانتی تھی۔

اور یہ دریافت تھی مشتری کے ایک اور بہت بڑے چاند ’یوروپا‘ کی۔ یوروپا کے بارے میں ہم بالکل نہیں جانتے تھے کیونکہ یوروپا ’لوو‘ کی چمک کے پیچھے چھپ جاتا تھا اور قدیم ماہرینِ فلکیات سے لے کر جدید تک اس کی موجودگی سے ہی لاعلم تھے۔ لیکن صرف یہی حیرت کی بات نہیں تھی کہ ’لوو‘ کے قریب ایک اور اس جتنا بڑا جسم موجود ہے بلکہ حیرت کی بات تو ایک اور تھی جس نے خلائی تحقیقات کرنے والوں کو ششدر کر کے رکھ دیا۔

اور وہ یہ کہ سلفر کے آتش فشاں کے پیچھے چھپا یہ چاند بالکل قطب شمالی جیسا ہے۔ اس کی سطح پر میلوں موٹی برف کی تہہ ہے۔ جس کے نیچے یقینا پانی کا سمندر ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہے پانی میں کسی نہ کسی شکل میں زندگی بھی ہونی چاہیے۔ اگر یہ اندازہ بھی درست ہے تو یقین کیجئے ہم کائنات میں زمین کے علاوہ کسی اور جگہ پر زندگی کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔لیکن برف کی اس میلوں موٹی تہہ کے نیچے کیسے جھانکا جائے۔

ناسا سمیت دنیا بھر کے خلائی تحقیق کے ادارے ایٹمی دھماکوں سمیت کئی منصوبوں پر غور کررہے ہیں۔ لیکن بجٹ سب سے بڑی رکاوٹ بن کر راستے میں آن کھڑا ہوتا ہے۔ امید ہے دنیا کو آپس کی نفرتوں اور ہتھیاروں کی تیاری سے فرصت ملے گی تو وہ بجٹ کا بڑا حصہ خلائی تحقیق اور غذائی ضروریات جیسی اہم ترین چیزوں کے لیے بچائیں گے۔

مسافر بیمار ہو گیا اگست انیس سو اکیاسی میں وائجر ٹو ایک مشکل میں پھنس گیا۔ وائجر ٹو پر ایک کیمرہ نصب تھا جسے زمین سے کنٹرول کیا جاتا تھا۔ اور جس طرف چاہے اس کا رخ موڑ کر تصاویر بنائی جاتی تھیں۔ لیکن بہت زیادہ استعمال کی وجہ سے کیمرے کے گیئر باکس کا تیل ختم ہوگیا۔

جس کی وجہ سے کیمرے کو بآسانی اِدھر اُدھر موڑنا ناممکن ہو گیا۔ اب اگر اسے ٹھیک نہ کیا جاتا تو وائجر ٹو کو خلا میں بھیجنے کا مقصد ہی فوت ہو جاتا کیونکہ اس کے کاموں میں سے اہم ترین کام نظام شمسی کے سیاروں، چاندوں، سیارچوں اور دوسرے لاتعداد خلائی اجسام کی تصاویر زمین پر بھیجنا ہی تو تھا۔ چنانچہ سارے منصوبے کو بچانے کے لیے سائنسدانوں کی ایک ٹیم دن رات کام میں جُت گئی۔ کیمرے کے ہینڈل کو ٹھیک کرنے کے لیے پچاسی مختلف طریقے آزمائے گئے۔

سب ناکام رہے۔ لیکن ہمت کرے انسان تو کیا ہو نہیں سکتا۔ چھیاسیواں طریقہ کام کر گیا اور ہینڈل اس حد تک ٹھیک ہو گیا کہ اس سے مرضی کا کام لیا جا سکے۔ لیکن اس وقت تک وائجر ٹو زحل سیارے کو پیچھے چھوڑتا ہوا یورنیس اور نیپچون کے قریب پہنچ چکا تھا۔

چاند پر برف کی دیواریں وائجر ٹو نے ٹھیک ہونے کے بعد پھر سے کام شروع کر دیا اور یورنیس سیارے کے گرد گھومنے والے دس چاند دریافت کیے۔ جن میں سے ایک چاند ’میرانڈا‘ ایسا بھی تھا جس پر برف کی بارہ میل اونچی دیوار دریافت ہوئی۔ وائجر نے انیس سو چھیاسی میں اس دیوار کی تصویریں زمین پر بھیجیں تو سائنس کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی۔

لیکن یہ کھلبلی زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ کیونکہ انہی دنوں انسانیت کو ایک بڑا صدمہ سہنا پڑا۔ جب خلائی تحقیق کے لیے جانے والے ایک خلائی جہاز ’چیلنجر‘کو خوفناک حادثہ پیش آیا۔ حادثے میں نا صرف جہاز تباہ ہو گیا بلکہ اس میں سوار سات خلاباز جل کر دھواں بن گئے۔ اور خلا میں تحلیل ہو گئے۔ ان خلابازوں میں دو خواتین بھی شامل تھیں۔

خدا حافظ سیارو وائجر ٹو نے انیس سو نواسی میں ہمارے نظام شمسی کے آخری سیارے نیپچون کی تصاویر بھیجیں تو پہلی نظر میں ہر کوئی اچھل پڑا۔ کیونکہ تصاویر کے مطابق نیپچون پر سفید بادل تیر رہے تھے اور سیارے کی سطح نیلے سمندروں سے نیلگوں ہو رہی تھی۔ بہت سے لوگ سمجھے کہ ایک اور زمین دریافت ہو گئی۔

لیکن وائجرٹو نے جب ڈھیر ساری مزید تصاویر بھیجیں اور اپنے سائنسی آلات سے جائزہ لے کر رپورٹس ناسا ہیڈکوارٹر بھیجیں تو راز کھلا۔ دراصل نیپچون پر سفید بادل تو ہیں لیکن یہ زمین جیسے بادل نہیں ہیں۔ بلکہ یہ میتھین گیس کے منجمد بادل ہیں جو سیارے کے گرد گھومتے رہتے ہیں۔ سیارے کی سطح کا نیلا رنگ نیلے سمندروں کی وجہ سے تو ہے لیکن یہ پانی کے سمندر نہیں بلکہ میتھین گیس کے سمندر ہیں۔

ہمارے مسافر کی ارسال کردہ یہ تصاویر نظام شمسی کو ایک قسم کا خدا حافظ تھا۔ وہ اس لیے کہ اس کے بعد کوئی سیارہ اس کا منتظر نہیں تھا۔ اب اسے کسی سیارے کی تصاویر نہیں بھیجنی تھیں اور اس کے رستے میں ہمارے نظام شمسی کے کسی سیارے کو کبھی نہیں آنا تھا۔ مسافر کو ایک نہ ختم ہونے والے خلا کی جانب بڑھ جانا تھا۔

جہاں اس کا ساتھی وائجر ون پہلے سے محو پرواز ہے۔ ہم کیا ہیں؟ فقط ایک روشنی کی لہر میں اٹکے ہوئے ذرے! وائجر ون نے انیس سو نوے میں ایک ایسی تصویر بھیجی جو رہتی دنیا تک ہمیں ہماری اوقات یاد دلاتی رہے گی۔ جب ہمارا یہ دوست زمین سے ساڑھے سات ارب میل دور تھا تو اس نے ایک بار پلٹ کر زمین کی جانب دیکھا اور اپنے کیمرے سے ایک تصویر بنائی۔

کیونکہ اس مسافر کو اب کبھی زمین پر لوٹ کر پھر نہیں آنا۔ اور مزید آگے جانے پر وہ زمین کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ تصویر جب واپس زمین پر پہنچی تو اسے انسانی تاریخ کی سب سے شاندار یادگار تصویر کہا گیا۔ تصویر میں زمین ایک بہت ہی مدھم سا نیلگوں ذرہ محسوس ہوتی ہے۔

جیسا کہ کبھی کسی درز سے دھوپ چھن کر اند رآ رہی ہو تو اس میں کئی ذرات نظر آتے ہیں۔ لیکن اس تصویر میں صرف ایک ذرہ تھا۔ نیلا سا، مدھم سا، معمولی سا۔ اس تصویر پر اس دور کے ایک عظیم فلاسفر اور سائنسی مصنف کارل سیگن نے ایک شاندار کتاب بھی لکھی تھی۔ جس کا ایک پیرا انسانیت کی پوری تصویر کشی کر دیتا ہے۔ سورج کی سلطنت کا کنارا آ گیا وائجر ون اور ٹو اس وقت سورج کی سلطنت کو پار کرنے والے ہیں۔ خاص طور پر وائجر ون تو کائنات میں ایک ایسے مقام پر پہنچ گیا ہے جس سے آگے ہمارے نظام شمسی کا مقناطیسی میدان ختم ہو جاتا ہے۔

اس نقشے میں وائجرون اورٹوکےعلاوہ دوسرے خلائی مشنزکا مقام دکھایا گیا ہےکہ وہ اس وقت کائنات میں کس مقام پر ہیں

اس لیے اسے خلا سے آنے والی خطرناک شعاعوں اور دوسرے خطرات کا سامنا ہے۔ لیکن ہمارے دونوں مسافر ہمیں اب بھی خلا سے ملنے والی ہر معلومات بذریعہ سگنلز اور تصاویر زمین پر بھیجتے رہیں گے۔ اور کائنات کے سربستہ رازوں سے پردہ اٹھانے کی گستاخانہ کوشش کرتے رہیں گے۔

مسافر اتنا بھی تنہا نہیں وائجر ون گو کہ سورج کی حدوں سے نکلنے والا پہلا مشن ہو گا۔ چار مشن اور بھی ہیں جو اسی کی پیروی کریں گے۔ جن میں سے ایک وائجر ٹو ہے جس کی کچھ کہانی آپ پڑھ چکے۔ جبکہ پائنیئر دس اور گیارہ ان دونوں سے پانچ سال قبل زمین سے چلے تھے۔

لیکن ذرا سست رفتار ہونے کی وجہ سے پیچھے ہیں۔ دوہزار چھ میں نظام شمسی کے آخری قابل ذکر جسم، پلوٹو، جسے کبھی سیارہ سمجھا جاتا تھا کی تحقیق کے لیے خاص طور پر ایک مشن روانہ کیا گیا۔ اس مشن کو ’نیو ہورائزن‘ کا نام دیا گیاہے۔ یہ مشن بھی پلوٹو پر تحقیق مکمل کرنے کے بعد وائجر ون اورٹو کے پیچھے چلتا ہوا سورج کی سلطنت سے نکل کر کسی اور ستارے کی حدود میں داخل ہو جائے گا۔ اور ہمیں کائنات کے نئے رازوں سے آشنا کرے گا۔

٭٭٭

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *