تین وجوہات جن کے باعث چین کو پاکستان کی ضرورت ہے؟

پہلی چیز مختصر راستہ

چین ترقی کر رہا ہے تو اسے ہر وقت تیل چاہیے اور اس کا اسی فیصد تیل مڈل ایسٹ سے آبنائے ملاکہ یعنی ملاکہ سٹریٹ کے راستے سے آتا ہے۔ یہ راستہ 9912 میل لمبا ہے۔ جبکہ پاکستان کی پورٹ گوادر سے سنٹرل چین تک یہ راستہ صرف 3626 میل بنتا ہے۔ جبکہ چین کی سرحد تک یہ راستہ صرف 2295 میل بنتا ہے۔ اگر چین اپنی تیل کی صرف آدھی مقدار بھی گوادر کے راستے امپورٹ کرے تو اسے روزانہ ساٹھ لاکھ ڈالر بچت ہو گی یعنی سالانہ دو ارب ڈالر۔ اگرچہ یہ قیمت چین کے لیے کوئی بہت زیادہ نہیں لیکن اس کے دو فائدے ایسے ہیں جو چین کسی بھی اور ذریعے سے نہیں حاصل کر سکتا ہے۔ یعنی محفوظ تجارت اور مغربی چین کی ترقی۔ آپ کو دکھاتے ہیں کیسے۔

دوسری چیز محفوظ تجارت

چین کو مسلسل اور بڑی مقدار میں تیل اور گیس چاہیے۔ لیکن آبنائے ملاکا جہاں سے چین تجارت کرتا ہے ہر وقت جنگ کے خطرے میں رہتا ہے۔ کیونکہ یہاں موجود جاپان، کوریا، تائیوان، فلپائن اور ویت نام چین کے لیے دردسر ہیں۔ کیونکہ انھی کا بہانہ بنا کر امریکی فوج کا سب سے بڑا چھٹا جنگی بیڑا یہاں موجود ہے۔ فلپائن، تائیوان سمیت یہ وہ جگہیں ہیں جہاں امریکی فوج نے قدم جمائے ہوئے ہیں۔ اس جگہ ہر وقت جنگ کے سائے منڈلاتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر حالات زیادہ کشیدہ ہوئے تو امریکہ اور یہ سارے ممالک مل کر چین کا راستہ بند کر سکتے ہیں۔ اور چین کی اکانومی کے لیے یہ زہر قاتل ہے۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی طرف سے راستہ سو فیصد محفوظ ہے۔

تیسری چیز مغربی ریاستوں میں ترقی

چین میں مشرقی ریاستوں کی طرف دیکھیں تو ہر طرف سڑکوں کا ایک جال نظر آتا ہے جس کی وجہ سے یہ تمام علاقہ بہت ترقی کر گیا ہے۔ لیکن یہ مغربی ۔۔۔۔ اف۔۔۔ بہت بہت پسماندہ چین ہے۔ سپر پاور بننے کے لیے چین کو ان علاقوں کو بھی ترقی کی دوڑ میں شامل کرنا چاہتا ہے۔ یہاں بہت تیزی سے انڈسٹری لگ رہی ہے لیکن انڈسٹری کے ساتھ انھیں ایکسپورٹ کے لیے انھیں محفوظ تجارتی راستے بھی تو چاہییں۔ تو اس کے لیے چین دو بڑے روٹ بنا رہا ہے ایک جدید شاہراہ ریشم جو قزاقستان، ازبکستان، ترکمانستان، ایران اور ترقی سے ہوتی ہوئی یورپ جائے گی۔ دوسرا سی پیک جس سے عرب دنیا اور افریقہ سے تجارت ہو سکے گی۔ دوسری پاکستان کے راستے بحرہند، عرب دنیا اور افریقی تک تجارت کے لیے سی پیک کا منصوبہ تو یہ تو ہوئی وہ تین چیزیں جن کے لیے چین کو ہر صورت پاکستان کی ضرورت ہے۔ تو پاکستان کو چین کی کیوں ضرورت ہے؟ کیا ہم چین کی مدد صرف اس لیے کریں کہ چین کو ہماری ضرورت ہے؟ نہیں کچھ ایسی چیزیں ہیں جن کے لیے پاکستان کو ہر صورت چین چاہیے؟

Leave a Comment

Your email address will not be published. Required fields are marked *